ججز کی جاسوسی ، جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کورونا کے مسئلے پر سیاست کی ، پی ٹی آئی رہنماوں نے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف بیان بازی کی ، سلیکٹڈ اور کٹھ پتلی کو ذمے داریوں کا کیا پتہ ، وہ پرائیویٹ ٹرپ پر سندھ آئے اور اسلام آباد چلے گئے۔ چاہتے ہیں گرتی دیوار جلد گر جائے تاکہ ملک کو بالغ قیادت ملے۔

وزیراعلی سندھ اور صوبائی وزرا کے ساتھ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وفاق نے صوبوں کو حصے سے کم رقم دی ، یہ صوبائی حکومتوں کو سپورٹ کرنے کا وقت تھا۔ امید تھی وفاق کی طرف سے ہر صوبے کیلئے ہیلتھ پیکج دیا جائے گا لیکن کہا جارہا ہے صوبے صحت کے مسائل سے خود نمٹیں۔

انھوں نے پی ٹی آئی کو چیلنج کیا کہ این آئی سی وی ڈی کے مقابلے کا ایک وفاقی اسپتال دکھائے، پشاور میں لیڈی ریڈنگ اسپتال جو عمران خان کے رشتے دار چلا رہے ہیں اس کا کراچی کے جے پی ایم سی سے مقابلہ کیا جائے ، وفاق کو صوبے کے تینوں اسپتال چھیننے نہیں دیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جسٹس عیسی کیس میں جج کی جاسوسی کا معاملہ سامنے آیا جو سنجیدہ ہے ، ججز کی جاسوسی کے معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جانی چاہئے. جسٹس عیسی مختلف افراد سے متعلق کچھ معلومات لے کر آئے ہیں اس پر بھی ریفرنس بننا چاہئے۔

ٹرینڈنگ

مینو