بلاول بھٹو کا وزیراعظم کو مناظرے کا چیلنج

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی تقریر ایوان یا اپوزیشن کیلئے نہیں سلیکٹرز کیلئے تھی، کارگل واقعہ کے دوران بھی حکومت انکاری تھی کہ وہاں جنگ نہیں ہورہی ،فوجیوں کو کھانا دیا نہ لباس، وہی سلوک اب کورونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں سے کیا جارہا ہے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ خارجہ پالیسی ملکی تاریخ کی کمزور ترین ہے۔ آپ نے مودی کی انتخابی مہم چلائی۔ آپ  نے تو کہا تھا مودی الیکشن جیت گیا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا، انھوں نے سوال کیا کہ بھارت سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن کیسے بنا ،یہ ہے کامیابی ؟ انھوں نے وزیراعظم کو ٹی وی یا ایوان میں مناظرے کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بتائیں اس حکومت نے سب سے زیادہ قرض جمع کیا یا نہیں۔

نون لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے بھی وزیراعظم کو مناظرے کا چیلنج دیا ، انھوں نے کہا کہ عمران خان کی تقریر فرمائشی تھی، کشمیری رو رہے ہیں، سیکیورٹی کونسل کا غیر مستقل رکن بننا بڑی بات نہیں لیکن بھارت کا 184 ووٹ لے کر رکن بننا بڑی بات ہے۔

خواجہ آصف نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ یہ کورونا ہے اور زرتاج گل کا نام لئے بغیر بولے کہ بل چونکہ گیٹ کے نیچے سے آتا ہے اس لئے بل گیٹ کہا جاتا ہے، انھوں نے طنز کیا کہ یہ نعرہ نہیں کہ گھبرانا نہیں ، یہ فلو نہیں کورونا وائرس ہے، جب تک یہ کرسی پر بیٹھے ہیں تباہی ہوتی رہے گی، آسٹریلیا کہتا ہے ہمارے یہاں کورونا پاکستان سے آرہا ہے ، ہماری ایکسپورٹ تو بڑھی نہیں کورونا کی ایکسپورٹ بڑھ گئی، پتہ نہیں یہ کس کس کی چوکھٹ پر جا کر سجدہ ریز ہوتے ہیں، ایک کروڑ بیس لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں،

ٹرینڈنگ

مینو