عوام کو عید کے بعد خوشخبری ملے گی ، بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں حکومت کے خلاف حکمت عملی طے کرلی گئی۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں عید کے بعد رہبر کمیٹی کے اجلاس اور آل پارٹیز کانفرنس سے عوام کو خوشخبری ملے گی۔

بلاول بھٹو نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں شہباز شریف کی رہائش گاہ جا کر ان سے ملاقات کی، اس دوران حکومت کے خلاف احتجاجی حکمت عملی اور اے پی سی سے متعلق امور پر بات چیت کی گئی۔

بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو نکالنا ضروری ہوگیا ہے۔ حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا نام لے کر جنرل ضیاء اور مشرف جیسے آمرانہ اختیارات چاہتی ہے اور اپوزیشن یہ نہیں ہونے دے گی۔ ان ہاؤس تبدیلی اور مڈٹرم انتخابات کے آپشن پر اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا، شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ناکام ہوچکی ہے۔

شہباز شریف نے عمران خان کی حکومت کو ناکام قرار دیا اور کہا کہ عید کے بعد ہونے والی رہبر کمیٹی میں طے کیا جانے والا ایجنڈہ اے پی سی میں زیربحث لایا جائے گا۔ پاکستان اور عمران خان کے ایک ساتھ چلنے کی اب کوئی امید نہیں۔ بلاول نے بتایا کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں حکومت ختم کرنے کے مطالبے پر متحد ہیں۔

اس سے پہلے بلاول بھٹو نے جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے  ملاقات کی۔

بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ مڈٹرم الیکشن سے متعلق مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے گی، حکومت نے عوام کی زندگی اور معیشت خطرے میں ڈال دی ہے۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ وہ رحمان ملک کی آرمی چیف سے ملاقات پر وضاحت طلب کریں گے، ہوسکتا ہے رحمان ملک سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ کے چیئرمین کی حیثیت میں آرمی چیف سے ملے ہوں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ اپوزیشن میں بطور ستون کام کر رہے ہیں ، حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کا ایجنڈا تو پہلے ہی طے ہوگیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو