عمران اسٹوپڈ یا کرپٹ ؟ بلاول

مناہل تنویر

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انھوں نے کورونا وبا کے دور میں لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے حکومت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا تو ان کے منہ پر طمانچہ مارا گیا، وزیرخارجہ اپنے الفاظ واپس لیں ورنہ استعفی دیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جیالے رہنما کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی کو ان کے ریمارکس سے سندھ کارڈ کی بو آنا قابل مذمت ہے، جب سندھ سے ناانصافی کی بات کرو تو کہتے ہیں سندھ کارڈ کھیل رہے ہیں، پیپلزپارٹی جب جنوبی پنجاب ، بلوچستان ، کشمیر اور گلگت بلتستان کی بات کرتی ہے تو کیا کارڈ کھیلتی ہے ؟

بلاول بھٹو نے کہا کہ انھیں معلوم ہے شاہ محمود قریشی سے کس نے رابطہ کرکے وزیراعظم بننے کا خواب دکھایا تھا ، پیپلزپارٹی کو نام بتانے پر مجبور نہ کیا جائے، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ اب پی ٹی آئی میں عمران خان کا نہیں اپنا لوہا منوانے کی کوشش کر رہے ہیں ، کیا یہ وقت سندھ میں سیاسی لوہا منوانے کا ہے ؟ ہمیں معلوم ہے آپ نے اپنا سیاسی لوہا کیسے منوایا۔

شوگر کمیشن سے متعلق سوال پر جیالے رہنما نے کہا کہ یہ تماشہ ہے، پی ٹی آئی احتساب پر یقین نہیں رکھتی، یہ اپنے اتحادیوں کو تھوڑا کھینچنا چاہتے ہیں لیکن انھیں کوئی دلچسپی نہیں کہ انصاف ہو، شوگر پر سبسڈی وزیراعظم کی مرضی کے بغیر کیسے دی گئی ؟ کیا وزیراعظم اسٹوپڈ ہے یا کرپٹ فیصلہ خود کرلیں، پیپلزپارٹی شوگر تماشے کو بے نقاب ضرور کرے گی، خان صاحب خوش نہیں اس لئے رپورٹ چھپا دی گئی۔

کورونا وبا سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم نے کس کس صنعت کار سے ملاقات کی دیکھ لیں، عمران خان نے وبا کے دور میں غریبوں نہیں سرمایہ داروں کو تحفظ دیا، اگر کسی کو ریلیف ملا تو وہ غریب نہیں انیل مسرت یا وزیراعظم کی اے ٹی ایمز ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں غریب جان خطرے میں ڈال کر کام کریں لیکن وہ اپنے دفتر سے باہر نہیں نکلیں گے۔ عمران خان پارلیمنٹ میں آنے کی تنخواہ لیتے ہیں انھیں ایوان میں آنا چاہئے تھا۔

سابق صدر آصف زرداری سے متعلق سوال پر چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ان کی صحت پہلے سے بہتر ہے لیکن انھیں کئی بیماریاں لاحق ہیں ، اس لئے احتیاط کی جارہی ہے۔شہباز شریف کینسر کے مریض ہیں ، پیپلزپارٹی نے بھی اپنے ارکان سے کہہ دیا ہے اگر صحت کے ایشوز ہیں تو ایوان میں نہ آئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ٹڈی دل پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی کیلئے خطرہ ہے، وفاقی حکومت نے ٹڈی دل کا تدارک کرنے کیلئے اب تک اقدامات نہیں کئے، ملکی زراعت خطرے میں ہے لیکن وفاق سو رہا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو