ناکافی بجٹ مسترد، وفاق نے کورونا پھیلایا ، بلاول

ویب ڈیسک

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ملک میں ہر پندرہ منٹ بعد ایک شخص کورونا وائرس سے ہلاک ہورہا ہے۔ یہ بجٹ اس وقت کا بجٹ نہیں، یہ کسی اور ملک کا ، کسی اور وقت کا ہوسکتا ہے، یہ پاکستان کا بجٹ نہیں ہوسکتا، یہ وبا کا مقابلہ کرنے والے ملک کا بجٹ نہیں ہوسکتا۔ 

بلاول بھٹو نے وفاقی بجٹ کے چیتھڑے اڑا دیئے ، انھوں نے قومی اسمبلی میں سوال کیا کہ کس نے کہا تھا وائرس جان لیوا نہیں ؟ کون لاک ڈاؤن کے خلاف تھا ؟ کس نے ٹیلی فون پر چلایا تھا کہ کورونا خطرناک نہیں ؟ کون کہتا تھا کورونا گرمیوں میں ختم ہوجائے گا ؟ کس نے کہا تھا ٹریفک حادثات میں لوگ مرجاتے ہیں لیکن ہم گاڑیوں پر پابندی نہیں لگاتے ؟ میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں یہ مجرمانہ غفلت کس کی ہے ؟ انھوں نے کہا کہ عوام پی ٹی آئی کو الیکشن میں جواب دیں گے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا امید تھی یہ وبا کے دور کا بجٹ ہوگا، تحریک انصاف نے ہر اس فیصلے کی مخالفت کی جو کورونا وبا کا پھیلاو روک سکتا تھا، آپ نے کورونا زبردستی پھیلایا، کیا حکومت نے ڈاکٹرز اور نرسز کو رسک الاونس دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ رمضان اور عید کا وقت وبا کیلئے خطرناک تھا ، حکومت بڑے اجتماعات کو روک سکتی تھی، لاک ڈاؤن کو عید تک بڑھایا جاسکتا تھا، اگر پابندیوں لگی رہتیں تو وبا بڑے شہریوں تک محدود رہتی ، لوگوں کو عید پر شہروں سے دیہات جانے دیا گیا اور اب وبا ملک بھر میں پھیل چکی ہے۔ سب کچھ ہوگیا لیکن گھبرانا نہیں ہم نے 92 کا ورلڈ کپ تو جیت لیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ کورونا کے بعد ٹڈی دل بڑا مسئلہ ہے۔ گزشتہ سال آصف زرداری اور اختر مینگل نے ٹڈیوں کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ فیڈریشن کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، ہم کس کو ذمہ دار ٹھہرائیں؟

ٹرینڈنگ

مینو