ٹرمپ نسل پرست ؟ مجسموں کا مستقبل؟

مناہل زہرہ

امریکا ، کینیڈا ، یورپ اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں متنازع مجسموں اور یادگاروں کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے ، کیا یہ متنازع مجسمے اور یادگاریں گراد دینی چاہئیں یا مجمسموں کو عجائب گھر کی زینت بنادینا چاہئے، آخر ماضی کی غلطیاں ٹھیک کرنا کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے ؟ زبرنیوز کے پروگرام This Is The Show کی دوسری قسط میں ان ہی مسائل پر نامور سیاست دانوں اور تجزیہ کاروں سے بات کی گئی ہے، آئیں یہ پروگرام دیکھتے ہیں

This Is The Show کا پہلا پروگرام امریکا کے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے اس پالیسی بیان سے متعلق تھا جو انھوں نے کشمیر کے بارے میں خصوصی طور پر جاری کیا۔ کینیڈا کی رکن پارلیمنٹ اقرا خالد ، برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان ، اے پی پیک کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد ، امریکا میں ری پبلکن پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ارجمند ہاشمی ، معروف دانشور پروفیسر عادل نجم ، پروفیسر نعیم ظفر اور ڈاکٹر سلیمان نقوی مہمان تھے۔

ان شخصیات نے مسئلہ کشمیر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا ، انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگر جو بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناو کم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کیا پیش رفت ممکن ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو