برطانیہ میں ہزاروں افراد کا احتجاج، 3 گرفتار

بلیک لائیوز میٹر تحریک برطانیہ میں زور پکڑ گئی، ہزاروں افراد ایک بار پھر لندن کی سڑکوں پر نکلے اور نسلی امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

شہریوں نے احتجاج نہ کرنے سے متعلق وزیراعظم بورس جانسن کی ہدایت نظر انداز کردی، مظاہرین ہائیڈ پارک میں جمع ہوئے اور بکھنگم پیلس سے ہوتے ہوئے ٹریفلگر اسکوائر پہنچے ، پولیس مارچ کرنے والے افراد کو دیکھتی رہی اور روکنے کی کوشش نہیں کی۔

پولیس اہلکاروں نے مظاہرے میں شریک 3 افراد کو گرفتار کیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں مطلوب تھے۔

دارالحکومت میں تاریخی مجسموں کو توڑ پھوڑ سے بچانے کیلئے سیکیورٹی الرٹ کی گئی اور سر ونسٹن چرچل سمیت کئی مجسموں کو محفوظ رکھنے کیلئے خصوصی انتظامات بھی کئے گئے۔

اگرچہ اکثر مظاہرین نے فیس ماسک لگا رکھے تھے لیکن احتجاج کے دوران سماجی فاصلے کی ہدایات نظر انداز کردی گئیں۔

مظاہرین نے نسلی منافرت کو وبا قرار دیا جبکہ برطانیہ بے قصور نہیں اور سفید فام افراد کی برتری ختم کی جائے کے نعرے لگائے۔

چند روز پہلے پرتشدد احتجاج کے باعث اس بار پولیس کے اضافی اہلکاروں کو طلب کرنا پڑا۔

وزیراعظم بورس جانسن کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ میں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کو انتہا پسندوں نے ہائی جیک کرلیا ہے اور وہ تشدد چاہتے ہیں۔ سر ونسٹن چرچل کے مجسمے پر حملے کا خطرہ شرمناک ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو