انگلینڈ: لاک ڈاؤن نرم، فرانس کھل گیا

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے انگلینڈ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے زندگی معمول پر لانے کیلئے 3 مراحل پر مشتمل منصوبے کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراعظم نے 3 ماہ دورانیئے کے اس منصوبے میں لوگوں سے کہا کہ جو گھروں سے کام نہیں کرسکتے وہ  لوگ دفاتر جاسکتے ہیں البتہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بجائے پیدل دفتر جانے یا سائیکل استعمال کرنے کو ترجیح دینا ہوگی۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ بدھ سے باہر دھوپ سینکنے اور گھروں سے باہر ایکسر سائز کی اجازت ہوگی ، گھر والوں کے ساتھ ٹینس اور گالف کھیلنا بھی ممکن ہوگا۔

بورس جانسن کے مطابق لوگوں کو سماجی دوری کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے سے 2 میٹر دوری اختیار کرنا ہوگی۔ خلاف ورزی پر جرمانہ بڑھا کر 3ہزار 2 سو پاؤنڈ کردیا گیا ہے۔

حکومتی منصوبے کے مطابق پرائمری اسکول اگلے ماہ کھول دیئے جائیں گے اور مزید دکانیں بھی کھولی جاسکیں گی جبکہ میزبانی کی صنعت جولائی میں کھولے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعظم کے (خبردار رہیں ، وائرس پر قابو پائیں اور زندگیاں بچائیں) منصوبے کو  اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا اسٹرجن کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے، اسکاٹ لینڈ ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خبردار رہئے کا پیغام سبز نہیں سرخ لائٹ روشن کرنے کے مترادف ہے، اس مبہم پیغام سے خدشہ ہے لوگ غیرضروری طور پر اپنی جانیں گنوا دیں گے۔

فرانس 8 ہفتے بعد آج کھول دیا گیا، اس کے باوجود خوف کی وجہ سے اکا دکا افراد ہی سڑکوں پر نظر آئے اور ایفل ٹاور سمیت دیگر عوامی مقامات پر سناٹا رہا۔

فرانس میں وبا پھیلنے کے بعد سے گزشتہ 24 گھنٹے میں کم ترین (70) اموات ہوئی ہیں، ملک میں 26 ہزار 380 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 77 ہزار ہے، اس بحران کا سب سے زیادہ سیاسی نقصان صدر ایمینوئل میکخواں کو ہوا جن کی مقبولیت مسلسل کم ہورہی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو