ٹیکس محاصل میں اضافہ مجبوری قرار

قرۃ العین

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ریلیف والا بجٹ ہے، پاکستان آئی ایم ایف کا تابعدار ہے نہ حکم کا پابند ، قرض عیاشی کیلئے نہیں بلکہ ماضی کے قرض واپس کرنے کیلئے لئے جارہے ہیں۔ ٹیکس محاصل میں اضافہ نہیں کریں گے توقرضوں کا بوجھ بڑھے گا۔

اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران حفیظ شیخ نے بتایا کہ کورونا سے کاروبار بند ہوئے تو ایف بی آر کی کلیکشن بھی متاثرہوئی ، بجٹ میں کورونا کے اثرات سے نمٹنے کے ساتھ عوام کو ریلیف دینے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کیا گیا، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے 40 سے 50 ارب کی ڈیوٹیز ختم کی گئیں، حکومت ٹیکس ادائیگی آسان بنا رہی ہے اور مراعات دینا ترجیح ہے۔

حفیظ شیخ نے کہا کہ سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی 25 پیسے کلو کم کی گئی، تعمیرات کے شعبے میں ٹیکسز نصف کردیئے، امپورٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس بھی کم کیا جارہا ہے۔

مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتیں بھی ایڈجسٹ ہونے جارہی ہیں۔ ایک سو 166 ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی، تقریبا 200 ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی کو کم کیا جارہا ہے، 10 اقسام کے ٹیکس ختم کئے جارہے ہیں، کیپٹل گین ٹیکس نصف کیا جارہا ہے۔

آئی ایم ایف سے متعلق سوال پر حفیظ شیخ نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ پاکستانیوں پر ظلم کیلئے نہیں بنایا گیا، پاکستان آئی ایم ایف کا تابعدار یا حکم کا پابند نہیں، عالمی ادارہ چاہتا ہے کہ آمدنی کے مطابق اخراجات کریں، پتا نہیں کیوں آئی ایم ایف کے معاملے کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو