اماں کو کورونا کہنے پر بشری انصاری کی کلاس

سینئر اداکارہ بشریٰ انصاری نے پاکستانی ڈراموں کے کرداروں پر تنقید کرنے والوں کو کورونا قرار دیا تو ان کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ گرم ہوگیا۔

یوٹیوب چینل اماں ٹی وی اور میں کے دوران لبنی فریاد نے بشری انصاری کے ڈرامے پر تنقید کی تھی ، انھوں نے بوڑھی اداکارہ سے نوجوان شخص کے ہاتھ پر آٹو گراف لینے کو غیر فطری قرار دیا تھا۔

بشری انصاری نے بھی پلٹ کر جواب دیا اور ڈراموں کے کرداروں پر تنقید کرنے والوں کو کورونا قرار دے دیا ، انھوں نے کہا کہ مشکل وقت میں ڈرامہ انڈسٹری کے لوگ بھی مشکلات سے دوچار ہیں، لوکلاس لوگ ڈراموں پر گھٹیا کمنٹس کرکے فنکاروں کی محنت پر تنقید کرتے ہیں، بشری انصاری نے یہ پوسٹ شیئر کرنے کے بعد اب ڈیلیٹ کردی ہے۔

سینئر اداکارہ نے پنجابی میں بات کرنے والی خاتون کے اسٹائل کو پینڈو اسٹائل قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں سمجھ نہیں آتی لوگ اس خاتون کا کمنٹری شو دیکھ ہی کیوں رہے ہیں؟

بشری انصاری کا کہنا تھا کہ جب کسی کے پاس کچھ کرنے کو نہ ہو تو وہ لوگوں سے حسد کرنا اور اپنے جاہل ہونے کا ثبوت دینا شروع کردیتا ہے، اللہ ایسے لوگوں کو عقل دے اور باعزت روزی بھی ، سینئر اداکارہ نے کہا کہ ایسے لوگ ہماری زندگیوں میں کورونا جیسے ہیں ، انشاءاللہ، اللہ انہیں جلد ختم کردے گا۔

بشری انصاری کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین شدید غصے کا اظہار کررہے ہیں اور معروف ادکارہ کے ڈرامے زیبائش پر بھی تنقید کی جارہی ہے۔

جویریہ نامی صارف نے تنقید کی اور کہا کہ آپ تنقید برداشت نہیں کرسکتیں اس لئے لوگوں کو کورونا کہہ رہی ہیں۔

زارا پیرزادہ نے اماں کو ہیرہ قرار دیا اور کہا پنجابی اسٹائل پر ان کی بے عزتی نہیں کی جانی چاہئے۔

ٹرینڈنگ

مینو