عائشہ عمر خود کو غیرمحفوظ سمجھنے لگیں

لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی کے بعد اداکارہ عائشہ عمر خود کو ملک میں غیر محفوظ تصور کرنے لگیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی طرح نامور شوبز شخصیات بھی ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

لاہور پولیس کے سربراہ سی سی پی او عمر شیخ نے متاثرہ خاتون کو مورد الزام ٹھہرایا اور کہا کہ خاتون آدھی رات کو نکلی ہی کیوں ؟  اس بیان کے بعد عمر شیخ پر تنقید کرنے والوں میں ادکارہ عائشہ عمر بھی شامل ہوگئیں۔

اداکارہ نے ٹوئٹ کرکے سوال کیا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کسی خاتون کو ہنگامی حالت میں رات کو گھر سے نکلنا پڑے گا۔ اس وقت کیا ہوگا جب اس کی فیملی کو ایمرجنسی طبی امداد کی ضرورت ہوگی؟

عائشہ عمر نے بتایا کہ وہ دنیا بھر میں رات ایک بجے سڑکوں پر خود کو محفوظ سمجھتی ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں غیرمحفوظ ہیں یہاں تک کہ اپنی کار میں بھی محفوظ نہیں ہوتیں۔

اداکارہ صنم بلوچ نے صحافی ثنا بچا کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا اور ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

اداکار فیروز خان نے وزیر اعظم عمران خان سے کہا کہ اگر آپ زیادتی کے ملزمان اور بچوں قاتلوں کو سرعام پھانسی نہیں دیں گے تو کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔

گلوکار عاصم اظہر نے ٹویٹ میں زیادتی کرنے والوں کو سرِ عام پانسی دو کا ہیش ٹیگ استعمال کیا۔

اداکارہ مہوش حیات نے ٹوئٹ میں پوچحا کہ کیسے سنگاپور میں خواتین رات کو 4 بجے بھی گھر سے نکل جاتی ہیں؟ یہی تحفظ پاکستان میں خواتین کو حاصل کیوں نہیں ہوسکتا؟

مہوش حیات نے پوچھا ہم جمہوری ملک میں رہتے ہیں یا کسی جنگل میں؟ انہوں نے موٹروے پر خاتون سے زیادتی کے ملزمان کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ بھی کیا۔

ٹرینڈنگ

مینو