اپوزیشن کا احتجاج، منیراورکزئی کی طبیعت خراب

وفاقی وزیر غلام سرور خان کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا ، غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اپوزیشن کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔

غلام سرور خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو جو کارروائی کرنی ہے کرے ، وہ اپنے خلاف نیب تحقیقات کا خیرمقدم کرتے ہیں اور اپوزیشن کی طرح سٹپٹائے نہیں ، اگر اپوزیشن کا احتساب ہورہا ہے تو وزرا کا بھی ہونا چاہئے، 3 ، 3 بار وزیراعظم ، 6 ، 6 بار وزیراعلی اور 6 ،6 بار وفاقی وزیر رہنے والوں کا بھی احتساب ہونا چاہئے۔ جنھوں نے گاجریں کھائی ہیں ان کے پیٹ میں درد تو ہوگا۔

اس دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا تو غلام سرور خان نے کہا کہ وہ تو اپنے پورے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کر رہے ہیں ، چوروں کو بھی احتساب کا سامنا کرنا چاہئے۔

نون لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ اراکین اپنی جانوں کا خطرہ مول لے کر مختلف شہروں سے آئے اور یہاں آکر خالی ڈیسک دیکھے ، 3 ماہ ہوگئے حکومت کی کورونا سے نمٹنے کی پالیسی سامنے نہیں آسکی ، حکومت کی صرف ایک پالیسی ہے کہ اپنوں کو عہدے کیسے دیئے جائیں ، وزیراعظم نے موجودہ حالات میں بھی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کیا ، یہ وزیراعظم انا کے کوہ ہمالیہ پر بیٹھے ہیں ، وزیراعظم باتجربہ کار اور نااہل ہیں۔

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ لوگوں کو معاشی بدحالی سے بچانا ہے اور وبا کو پھیلنے سے بھی روکنا ہے ، توازن کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا، مغرب کی اندھی تقلید نہیں کریں گے۔ کورونا سے اموات اور کیسز بڑھ گئے لیکن صورتحال کنٹرول سے باہر نہیں ہوئی۔ اس وقت ملک میں 70 لیبارٹریز کورونا ٹیسٹ کر رہی ہیں ، حکومت ایک ہزار سے زائد وینٹی لیٹرز خرید رہی ہے ، جب تک حفاظتی تدابیر پر عل کیا جائے گا تباہی نہیں ہوگی۔

اجلاس کے دوران منیر اورکزئی کی طبیعت خراب ہوگئی، انھیں فوری طور پر پمز منتقل کیا گیا، منیر اورکزئی نے حال ہی میں کورونا وائرس کو شکست دی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو