90 ہزار چینی مرتے تو وائٹ ہاوس جلا دیتے

کورونا وبا اور اس کے علاج کے معاملے پر امریکا اور چین میں حکومت نواز میڈیا نے ایک دوسرے کے خلاف جنگ کا محاذ کھول دیا ہے۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں کورونا تو نہیں مگر وہ 2 ہفتے سے روزانہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن کھا رہے ہیں۔ اس بات کا چین کی کمیونسٹ پارٹی کی سرکاری پبلی کیشن کے ایڈیٹر ان چیف ہو شی جن نے مذاق اڑایا۔

انھوں نے ٹوئٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کورونا وبا سے لڑنے کیلئے جادو ٹونے پر اتر آئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ 90 ہزار سے زائد لوگوں کی جان جا چکی ہے۔

ہوشی جن نے مزید لکھا کہ اگر ایسا چین میں ہوتا تو مشتعل افراد صدارتی محل کو آگ لگا دیتے۔ ہو نے اب یہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کچھ ہفتے پہلے اس بات کی منظوری دی تھی کہ کوویڈ نائنٹین میں مبتلا مریضوں کا علاج کرنے کیلئے ملیریا کے خلاف استعمال کی جانے والی دوا کلوروکوئن دی جائے۔

سروے میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ کلوروکوئن استعمال کرنے والوں کی ہارٹ اٹیک سے اموات بڑھ گئی تھی، نتیجے میں امریکی حکومت نے کلوروکوئن کے استعمال پر پابندی لگادی تھی، عالمی ادارہ صحت بھی دنیا کو خبردار کر چکا تھا کہ کلوروکوئن کا استعمال نقصان دہ ہے۔

ایف ڈی اے اور ڈبلیو ایچ او ایک طرف، وائٹ ہاوس کے ڈاکٹر شون کونلے نے بھی کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی طرح وہ بھی سمجھتے ہیں کہ کلوروکوئن کے استعمال سے نقصانات کا اندیشہ کم اور فائدہ زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق نہیں کہ صدر ٹرمپ کو ہائیڈروکسی کلوروکلوئن کا یہ نسخہ خود انھوں نے ہی تجویز کیا ہے۔

وائٹ ہاوس کی ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے امریکی عوام سے صاف بات کی، تاہم کیلیی مک اینینی نے لوگوں کو خبردار کیا کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر استعمال نہیں کرنی چاہئے۔

امریکی ایوان نمائندگان کی خاتون اسپیکر نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کو ہائیڈرکلوروکوئن کھانے سے خبردار کیا۔ انھوں نے کہا جس چیز کو سائنسدان منظور نہیں کر رہے اسے 73 برس کی  عمر اور ڈھائی من وزن کے حامل صدر ٹرمپ کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

برطانیہ کے وزیراعظم نے بھی صدر ٹرمپ پر چوٹ کی ہے۔ بورس جانسن کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کے طبی ماہرین کورونا وائرس کے خلاف ہائیڈروکلوروکوئن تجویز نہیں کرتے۔ بورس جانسن جب کوویڈ نائنٹین کا شکار ہوئے تھے تو صدر ٹرمپ نے پیش کش کی تھی کہ وہ امریکی دوائی بھیجنے کو تیار ہیں تاہم برطانیہ نے دوائی لینے سے انکار کردیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو