فوج حکومتی پالیسیوں کی حامی ہے، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک فوج تمام حکومتی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے اور سعودی عرب ہمشیہ پاکستان کا دوست رہے گا۔

عمران خان نے غیرملکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ جمہوری حکومت کے فوج سے بہترین تعلقات ہیں جو ماضی میں نہیں رہے، ہم فوج کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

عمران خان نے بتایا کہ راتوں رات معیشت ٹھیک نہیں کی جا سکتی البتہ ملک کو درست سمت میں گامزن کردیا گیا ہے، آگے بڑھنے کیلئے کرپشن ختم ہونا ضروری ہے۔ میڈیا آزاد ہے ، حکومت پر تنقید سے پریشانی نہیں لیکن حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم کا قائدانہ کردار چاہتا ہے، کچھ ممالک تجارتی مفادات کے باعث کشمیر میں بھارتی ناانصافیوں پر خاموش ہیں البتہ پاکستان چپ نہیں رہے گا۔

وزیراعظم نے افغان امن عمل معاہدے کو معجزہ قرار دیا اور کہا کہ بھارت افغانستان میں مداخلت کرتا ہے جس سے مسائل ہوتے ہیں، پڑوسی ملک میں بدامنی ہوگی تو پاکستان بھی متاثر ہوگا۔ بعض عناصر افغان امن عمل کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا معاشی مستقبل چین سے جڑا ہے، چین سے تعلقات پہلے سے بہتر ہیں، امریکا سے بھی بہترین تعلقات ہیں لیکن پاکستان کو چین یا امریکا سمیت کسی کا کیمپ بننے کی ضرورت نہیں۔

ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بہترین تعلقات ہیں اور ہمیشہ دوستانہ تعلقات قائم رہیں گے، چند ملکوں کے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، فلسطین کا منصفانہ حل نکالنا ہوگا ، فلسطین کے معاملے پر یکطرفہ فیصلے مسائل کا حل نہیں، اسرائیل جب تک فلسطین کو الگ ریاست نہ دے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔

ٹرینڈنگ

مینو