کھڑکی سے باہر دیکھو : دم دار ستارا ہنس

سبز روشنی والا دم دار ستارا ہنس ان دنوں آنکھ سے بھی دیکھا جاسکتا ہے ، ہنس کی دم ایک کروڑ 10 لاکھ میل لمبی ہے۔

اسے آسٹریلوی ماہر فلکیات مائیکل میتی ایزو نے اپریل میں دریافت کیا تھا۔ یہ زمین سے سورج کی جانب بڑھ چکا ہے مگر جس قدر یہ سورج سے قریب ہورہا ہے اس کی سبز روشنی مزید پھیل رہی ہے۔ یہ دم دار روشن ستارہ جنوبی کرہ ارض سے زیادہ بہتر دیکھا جاسکتا ہے تاہم شمالی کرہ ارض پر رہنے والے بھی اسے طلوع آفتاب سے پہلے افق کے نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

ہنس نامی یہ ستارہ اس وقت زمین سے  5 کروڑ 30 لاکھ میل کے فاصلے پر ہے۔ یہ ستارہ جنوب سے شمال کی جانب بڑھ رہا ہے ، ہم اسے اپنی آنکھوں سے بہت دھندلا سا دیکھ سکتے ہیں مگر اس ماہ کے اختتام تک یہ نسبتا زیادہ روشن ہوجائے گا۔

یہ ستارہ جس قدر سورج کے قریب جا رہا ہے، تپش بڑھنے کے سبب اس سے زیادہ سے زیادہ مادوں کا اخراج ہورہا ہے ، یہ سورج کی زیادہ روشنی بھی منعکس کر رہا ہے اور اسی وجہ سے زیادہ روشن بھی نظر آرہا ہے۔  ہنس نامی یہ روشن ستارہ 27 مئی کو سورج کے انتہائی قریب ہوگا اور اسی لئے خطرناک ترین زون میں داخل ہوجائے گا۔ کمیٹس یعنی ایسے ستارے عموما نازک ہوتے ہیں اور سورج کے قریب پہنچنے پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایٹلس نامی ستارے کے ساتھ کچھ ایسا ہی پچھلے ماہ پیش آیا تھا۔ ہنس نامی ستارہ تپش سہہ گیا تو یہ 27 مئی کے بعد کہیں زیادہ روشن ہوجائے گا اور شمالی کرہ ارض پرشام کو چمکتا ہوا نظر آئے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو