صدر ٹرمپ اور ڈاکٹر فاؤچی میں کشیدگی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کے تعلقات مزید خراب ہوگئے، ڈاکٹر فاؤچی کی مبینہ غلطیوں سے متعلق لسٹ جاری کئے جانے کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا ٹیم کے سربراہ اور وائٹ ہاوس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف ڈان سکاوینو نے ڈاکٹر فاؤچی کو نلکے کی ٹونٹی سے تشبیہ دی ہے۔

وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری کہتی ہیں فاؤچی کورونا ٹاسک فورس کے ایک رکن ہیں لیکن دیگر ارکان بھی اپنا موقف پیش کرتے ہیں اور ٹاسک فورس کے ذریعے معلومات صدر تک پہنچ جاتی ہیں۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے ڈاکٹر فوچی پر تنقید بڑھا دی ہے اور صدر کے ری ٹوئٹس نے بھی صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔

ان میں سے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر فاوچی شاپنگ کیلئے آئی ڈی کارڈ ساتھ لے جانے کی حمایت کرتے ہیں۔

وائٹ ہاوس نے کورونا وبا سے متعلق ڈاکٹر فاوچی کے بیانات پر مشتمل دستاویز تقسیم کی ہے جسے ان پر حملہ تصور کیا جارہا ہے۔ اب ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ یہ وائٹ ہاوس کا میمو نہیں بلکہ میڈیا کے سوالات کا جواب ہے۔ ڈاکٹرفاوچی کی غلطیوں سے متعلق وائٹ ہاوس کی لسٹ این بی سی پر 12 جولائی کو نشر کی گئی تھی۔

وائٹ ہاؤس کی دستاویز میں کیا ہے اور کیا غائب

وائٹ ہاوس کے مطابق ڈاکٹر فاوچی نے جنوری کی ابتدا میں کہا کہ ہمیں اسے (کورونا وائرس) سنجیدگی سے لینا چاہئے لیکن یہ امریکیوں کیلئے بڑا خطرہ نہیں اور ابھی لوگوں کو اس سے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر فاوچی نے یہ انٹرویو جنوری کی ابتدا میں نہیں بلکہ 21 جنوری کو امریکا میں پہلے کیس کی تصدیق کے بعد دیا تھا ، کورونا مریض ووہان سے امریکا پہنچا تھا۔

اگلے ہی دن صدر ٹرمپ نے وائرس پر پہلا بیان تھا اور سی این بی سی کو بتایا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے، وہ (مریض) صرف ایک شخص تھا۔

وائٹ ہاوس کے مطابق 29 فروری کو اس سوال پر کہ کیا لوگوں کو سنیما ، مال اور جم نہیں جانا چاہئے ، کیا عادتیں تبدیل کرلی جائیں ؟ ڈاکٹر فاوچی نے جواب دیا کہ فی الحال نہیں۔ وائٹ ہاوس نے یہاں بھی ان کا اہم جملہ غائب کردیا ، ڈاکٹر فاوچی نے کہا تھا کہ یہ تبدیل ہوسکتا ہے، آپ کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ اس وقت خطرہ کم ہے اور معمولات بدلنے کی ضرورت نہیں ، جب زیادہ لوگ باہر آئیں گے تو صورتحال بدل سکتی ہے اور آپ کو زیادہ احتیاط پر مجبور ہونا پڑے گا۔

وائٹ ہاوس کے مطابق 17 فروری کو اس سوال کے جواب میں کہ کیا موسمی فلو بڑی پریشانی کا باعث ہے؟ ڈاکٹر فاوچی نے کہا کہ ایسے میں جب لوگ چینی ریسٹورنٹ جانے سے گھبرا رہے ہیں ، خطرہ انفلوئنزا سیزن سے ہے جو بچوں کیلئے خطرناک ہوسکتا ہے، وائٹ ہاوس نے یہاں بھی یہ نہیں بتایا کہ ڈاکٹر فاوچی نے کہا تھا کہ یہ عالمی وبا کی صورت اختیار کرسکتا ہے جو اس وقت امریکا کیلئے بھی مضر ثابت ہوسکتا ہے، یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ کورونا وائرس کی صورتحال بدل سکتی ہے اور یہ خطرناک ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر فاوچی فیس ماسک پر بھی زور دیتے رہے ہیں البتہ صدر ٹرمپ نے کچھ روز پہلے ہی فیس ماسک پہنا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو