جاپان نے کورونا پر کیسے قابوپایا ؟

محسن رضا

کورونا وبا سے جاپان میں 4 لاکھ افراد کی موت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا البتہ شنزو آبے حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کئے جن سے  نہ صرف وبا پھیلنے سے روک لی گئی بلکہ اموات کی تعداد بھی زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ ملک میں نافذ ہنگامی حالت بھی ختم کی جاچکی ہے۔

جاپان نے ملک میں مکمل شٹ ڈاون نہیں کیا، جنوبی کوریا کی طرح آبادی کے بڑے حصے کے بجائے  صرف اعشاریہ 2 فیصد آبادی کو ٹیسٹ کیا ، وہ ملک جنہیں اولمپکس میں شرکت کرنا تھی وہ خود لاک ڈاون کرچکے تھے تاہم جاپان نے اولمپکس کے التوا میں بھی سست روی کا مظاہرہ کیا۔

جاپان نے چین اور سنگاپور کی طرح سرویلئنس ٹیکنالوجی کا استعمال بھی نہیں کیا۔

جاپان میں 26 صد افراد کی عمر 65 برس سے زیادہ ہے اور معمر افراد کے بیمار پڑنے کا خدشہ زیادہ تھا تاہم وہ بیمار بھی نہ پڑے۔

جاپان نے سماجی فاصلوں پر بھی زور دینا مناسب نہیں سمجھا بلکہ لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ ان تینوں باتوں سے اجتناب کریں جو تین سیز یعنی کلوزڈ اسپیسز (بند جگہیں جہاں وینٹی لیشن بہت کم ہو)، کراوڈڈ پلیسز (پرہجوم مقامات) اور کلوز کنٹیکٹ سیٹنگز (یعنی ایسی جگہیں جہاں لوگ ایک دوسرے کے انتہائی قریب بیٹھیں)۔

وبا کے باعث جاپان میں نہ صرف ہینڈ سینٹائزر کا استعمال بڑھایا گیا بلکہ لوگوں نے حکومت کی تمام ہدایات پر مکمل کیا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کورونا کے خلاف جاپان کی کامیابی  کے پیچھے پراسراریت ہے۔

کورونا سے لڑنے میں جاپان کو اس کے کلچر نے بھی مدد دی۔ ماسک پہننے کی عادت ، موٹاپے کی شرح انتہائی کم ہونا اور حکومت کی جانب سے فوری طور پر اسکول بند کرنا کام آگیا۔ بعض افراد کا یہ بھی خیال ہے کہ جاپانی شہری بات کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ منہ سے کم سے کم ڈراپلیٹس نکلیں۔ امریکا کے برعکس جاپان میں ایک دوسرے کو بے وجہ چھونے کا بھی کلچر نہیں۔ صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور پبلک ہیلتھ کا نظام بھی انتہائی مستحکم ہے۔

جاپان کی کامیابی کا ایک راز خطرے کو بھانپ کر فوری ایکشن بھی تھا۔ ڈائمنڈ پرنسز کروز شپ کو جس طرح روک کر مسافروں کے ٹیسٹ کئے گئے اور انہیں فوری قرنطینہ کیا گیا، اس سے بھی مرض کا پھیلاو روکنے میں  مدد ملی۔ وہ لوگ جو جنوری میں کورونا مریضوں سے ملے، انہیں بھی کم وقت میں تلاش کرکے آئسولیٹ کرلیا گیا جس سے وبا شدت اختیار نہ کرسکی۔ تاہم یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی جو قسم ایشیا کو متاثر کررہی ہے وہ اس قدر مہلک نہیں جس قدر امریکا اور یورپ میں پھیلا ہوا وائرس ہے۔

جاپان کے وزیراعظم نے شہریوں سے کہا تھا کہ اب ایک نئے لائف اسٹائل کو اپنانا ہوگا اور اپنی سوچ بھی بدلنی ہوگی۔

اوساکا کے میئر اچیرو متسوی نے اپریل میں بیان دیا تھا کہ صرف مردوں کو خریداری کیلئے بازار جانے کی اجازت دی جانی چاہئے کیونکہ خواتین بہت زیادہ وقت لگاتی ہیں۔ اس پر انھیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ، انھوں نے میاں بیوی کے ایک ساتھ باہر نکلنے کی بھی مخالفت کی تھی۔

جاپان میں کورونا سے 900 افراد ہلاک ہوئے اور بیماروں کی تعداد 16 ہزار 985 ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس پر قابو پانے سے متعلق رائے حتمی طور پر قائم کرنے سے پہلے وبا کے مکمل خاتمے کا انتطار کرنا چاہئے۔

ٹرینڈنگ

مینو