کورونا سے نمٹنا صدی کا سب سے بڑا چیلنج

عبدالجبارمیمن ( قونصل جنرل آف پاکستان، لاس اینجلس،امریکا )

کورونا وبا عالمی سطح پر اس صدی کا سب سے بڑا بحران ہے۔ اس کے دور رس اثرات ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ یہ وائرس ہمارے پیروں سے زمین کھینچ رہا ہے۔ اس نے نہ صرف اسٹاک مارکیٹوں کا بھٹہ بٹھا دیا بلکہ معاشی اور سیاسی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں حکومتوں کی ناکامی بھی ظاہر کردی ہے۔

عالمی وبا نے سپرپاور سمیت مختلف ممالک کی قومی ترجیحات ، مفادات اور سیکیورٹی حکمت عملیوں کو بھی تبدیل کیا ہے۔ امریکا میں ہر 10 میں سے ایک شہری نوکری سے محروم ہوا۔ یہی نہیں بلکہ جن کی ملامتیں برقرار ہیں (مقامی اور عالمی سطح پر چیزوں کی طلب کم ہونے کے سبب) ان کی آمدنی بھی کم ہوگئی ہے۔

مستقبل میں صحت کا شعبہ قومی سلامتی پالیسی کا اہم جزو بنے گا جسے ہر حکومت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ڈیجیٹل ہیلتھ ٹیکنالوجی مثلا ٹیلی میڈیسن اور ورچوئل مشاورت کا رواج بڑھے گا۔ وبا سے نمٹنے کیلئے انٹیلی جنس آپریشنز اور وبا کی نگرانی کا عمل ہر قوم کیلئے اہمیت اختیار کرے گا۔ فارماسیوٹیکل پراڈکٹس، طبی آلات اور دیگر میڈیکل سپلائز کی مقامی سطح پر تیاری میں تیزی آئے گی۔

گلوبل سپلائی کی زنجیر بھی ازسرنو مرتب ہو رہی ہے تاکہ چیزوں کی تیاری کے مختلف مراحل کو کم اور آسان بنایا جائے۔ ایسی چیزیں جو دور دراز ممالک سے درآمد کی جاتی ہیں اور جن کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو، ان پر انحصار کم کرنا ہوگا۔

کورونا کے دور رس سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ اس سے نیشنل ازم بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہ وبا اداروں کی سطح پر نسل پرستی بڑھانے اور امیگریشن پالیسیوں کو سخت کرنے کا بہانہ بھی بن سکتی ہے۔

تعلیمی اداروں کے بند ہونے سے ڈیڑھ ارب نوجوانوں کی زندگیوں پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر وہ نوجوان ہیں جن کا تعلق پسماندہ ممالک سے ہے۔

چین اس بیماری کا سب سے پہلے شکار بنا مگر موثر منصوبہ بندی کے ذریعے وبا پر قابو پالیا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پالیسی سازی میں چین کا کردار نمایاں رہے گا۔ امریکا اور یورپی یونین کو بھی اب چین سے سبق سیکھنا ہوگا۔

اب نارتھ ، ساوتھ پیراڈایم ختم ہورہا ہے۔ چین، جاپان اور جنوبی کوریا اس وبا کا مقابلہ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر آفتوں کا مقابلہ کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کی اجارہ داری ختم ہورہی ہے اور ان کی جگہ ایشین ٹائیگر معیشتیں لے رہی ہیں۔

چین اور جنوبی کوریا جو کورونا وائرس سے ابتدا میں متاثر ہوئے تھے، اب وبا پر قابو پانے میں عالمی ادارہ صحت اور یورپی ممالک کی مدد کررہے ہیں۔ چین کی تنظیم ماسک ، پی پی ای یورپی ممالک کو بھیج رہی ہیں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو ماضی میں ترقی یافتہ ممالک کیا کرتے تھے۔

کورونا وبا نے ظاہر کیا ہے کہ دنیا کا ایک دوسرے پر کس قدر انحصار ہے۔ اب یہ تقریبا ناممکن ہے کہ کوئی ملک انفرادی طور پر اس وبا کا مقابلہ کرلے۔ عام طور پر پاکستان امریکا کی امداد حاصل کرتا ہے تاہم اس بار آپ کی مدد ہی ہماری مدد کے اصول کے تحت پاکستان نے وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکا کی مدد کی ہے۔ پاکستانی ایئرفورس کے سی ون تھرٹی طیاے کی میری لینڈ ملٹری ایئربیس آمد اسی تعاون کااظہار ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھی امریکا کے اسپتالوں کو ضروری اشیا عطیہ کی گئی ہیں۔

کورونا وبا سے دنیا کی ساڑھے 7 ارب سے زائد آبادی کو خطرہ لاحق ہے۔ جب تک ویکسین تیار نہیں ہوتی، دنیا کو مزید 18 ماہ تک اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج معیشت کی بحالی ہے۔ جس کیلئے حکومتوں کو غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو