10 جنوری تک تمام تعلیمی ادارے بند

محمد عثمان

حکومت نے ملک بھرکے تمام تعلیمی ادارے 26 نومبر سے 10 جنوری تک بند کرنے کا اعلان کردیا۔

وفاقی وزیرشفقت محمود کی زیرصدارت وزرائے تعلیم کا اہم اجلاس ہوا جس میں صوبائی وزرائے تعلیم و دیگر متعلقہ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اس دوران موسم سرما کی تعطیلات سے متعلق مشاورت ہوئی اور معمول سے زائد تعطیلات کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرتعلیم شفقت محمود نے بتایا کہ 26 نومبر سے اسکول، کالجز، یونیورسٹیز اور ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

شفقت محمود نے بتایا کہ 26 نومبر سے 24 دسمبر تک تعلیمی ادارے بند رکھیں جائیں گے اور 25 دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات ہوں گی ، 11 جنوری سے تعلیمی ادارے دوبارہ کھلیں گے۔ جہاں آن لائن نظام ہے وہاں آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا اور جہاں آن لائن نظام نہیں ہوگا وہاں اساتذہ ہوم ورک دیں گے جبکہ اس سلسلے میں فیصلے صوبائی حکومتیں کریں گی۔

حکومت نے دسمبر میں ہونے والے تمام امتحانات 15 جنوری تک ملتوی کردیئے البتہ انٹری لیول کے امتحانات روٹین کے مطابق جاری رہیں گے ، یونیورسٹیز کے ہاسٹلز میں دور دراز علاقوں سے آنے والے ایک تہائی طلبہ کو رہنے کی اجازت ہوگی۔

وزیرتعلیم نے بتایا کہ جنوری کے پہلے ہفتے میں ریویو سیشن ہوگا ، اس دوران بیماری کی صورتحال دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا اور 11 جنوری کو تعلیمی ادارے دوبارہ کھل جائیں گے۔  ایسے ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ جہاں روزانہ کلاسز نہیں ہوتیں وہ چلتے رہیں گے جبکہ سینئر میڈیکلز کی ٹریننگز جاری رہیں گی۔

شفقت محمود نے بتایا کہ مارچ یا اپریل میں ہونے والے بورڈ کے امتحانات مئی جون میں لینے کی سفارش کی گئی ہے، یہ تجویز بھی ہے کہ نیا تعلیمی سال اپریل کے بجائے اگست تک لے جایا جائے اور گرمیوں کی چھٹیاں کم کردی جائیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے مطابق تعلیمی اداروں میں ایک ہفتے کے دوران کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 82 فیصد رہی۔ ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 7.46 فیصد ہوگئی ہے جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں یہ شرح 11.45 فیصد ہے۔ کراچی ، حیدرآباد، راولپنڈی، ملتان، لاہور، فیصل آباد، پشاور، ایبٹ آباد اور سوات کورونا سے زیادہ متاثرہ شہروں میں شامل ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو