لاک ڈاؤن ختم، مذہبی اجتماعات اجازت سے مشروط

اسرار خان، محسن رضا

سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن مزید نرم کردیا البتہ شادی ہالز اور اسکول 15 ستمبر تک بند رہیں گے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا ہے البتہ عوام نے فیس ماسک کی پابندی نظر انداز کردی۔

سندھ حکومت کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں ایس او پیز کے تحت ہفتے کے 6 دن صبح 6 بجے سے رات 8 بجے تک کاروباری سرگرمیاں جاری رکھی جاسکیں گی، ہفتے کو رات 9 بجے تک کاروبار کھولنے کی اجازت ہوگی۔ عام دنوں میں ریسٹورنٹس رات 10 بجے اور ہفتے کو 11 بجے تک کھولے جاسکیں گے۔

ریسٹورنٹس میں لوگوں کے درمیان 3 فٹ کا فاصلہ لازمی رکھنا ہوگا جبکہ شائقین کے بغیر ہر قسم کے کھیلوں کی بھی اجازت ہوگی۔

سندھ میں ایس او پیز کے تحت بیوٹی پارلرز ، سنیما ، پارکس اور پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

صوبے میں تعلیمی ادارے ، شادی ہال اور ایکسپو سینٹرز 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے۔ سیاحتی سرگرمیوں اور مزارات کھولنے کی اجازت دی گئی ہے البتہ اجتماعات کیلئے اجازت لینا لازمی ہوگا۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبے میں لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا۔ شادی ہالز کے علاوہ بازار ، شاپنگ مالز ، ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کھول دیئے گئے ہیں۔

ریسٹورنٹس میں گنجائش سے 50 فیصد کم افراد کو کھانا کھانے کی اجازت ہوگی اور ہر ٹیبل کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رکھنا لازمی ہوگا جبکہ پلے ایریا بند رکھے جائیں گے۔

سنیما ہالز میں ماسک پہننا لازمی ہوگا اور گنجائش سے 60 فیصد کم افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی ، تھیٹر میں بھی 6 فٹ کا سماجی فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔

اگرچہ کاروبار کھول دیئے گئے لیکن مذہبی اجتماعات حکام کے اجازت نامے سے مشروط ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے بھی صوبے میں لاک ڈاون ختم کردیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو