عالمی وباء اور کتاب کائنات سے رہنمائی

عباس سرور قریشی ، سفارت خانہ پیرس ، فرانس

یہ اچانک کیا ماجراء ہو گیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے دفتر، اسکول، کالج، مارکیٹیں، ریسٹورنٹ، سڑکیں ویران ہوگئیں اور اسپتال مریضوں سے ابل پڑے۔ انسان حیرت کی تصویر بنا ہوا ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہوا ؟ کس طرح ایک کونے سے اٹھنے والی بیماری نے پورے کراہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے لیا؟پہلے تو زمین کے چوہدریوں نے کہا کہ یہ محض نزلہ زکام ہے، جیسے حملہ آور ہوا ہے ویسے ہی کچھ دنوں میں چلا بھی جائے گا۔ پھر کہنے لگے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں، ذرا موسم بدلنے دو دیکھنا یہ کورونا وائرس دُم دبا کر بھاگ جائے گا۔ کچھ نے کہا یہ صرف بوڑھے اور کمزور لوگوں پر حاوی ہوسکتا ہے، بچے، نوجوان اور عورتیں اس سے محفوظ ہیں اور پھر سننے میں آیا اس وائرس کو تہس نہس کرنے والی دوائی بس آنے کو ہے، اس کے آتے ہی زندگی پھر سے رنگین ہو جائے گی۔ مگر تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔

ایک ایک کر کے زمینی خداؤں کے بھرم ٹوٹ گئے۔ ایسے واقعات رونماء ہوئے کہ ان کے اوسان خطا ہوگئے۔ قبرستانوں میں جگہ کم پڑ گئی، ہسپتال ضرورت سے زیادہ بھرگئے، فیکٹریاں بند ہوگئیں، تمام طرح کے سفر پر پابندی لگانی پڑی، بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ خواتین کی بھی اموات ہونے لگیں، کروڑوں لوگوں کا ذریعہ روزگار ختم ہو گیا اور جب وائرس پر کوئی دوائی کارگر نہیں ہوئی تو اس کا سایہ وسیع تر ہوتے ہوئے پوری دنیا پر خشکی اور پانی دونوں پر چھا گیا اور ہر دل کورونا کے خوف میں مبتلاہوگیا۔

جس شے کیلئے ملکوں کو تہس نہس کیا گیا اور حکومتوں کو پچھاڑا گیا۔ اس معمولی وائرس نے اس کی وقعت ٹائلٹ رول سے بھی کم کر دی۔ آج کل عالمی منڈی میں تیل بے قیمت ہے۔ بڑی عمارتیں جہاں منڈیاں سجائی جاتی تھیں وہ وقتی طور پر اسپتالوں کا روپ دھار چکی ہیں۔ ماں باپ اپنے ہی بچوں سے ملنے کو ترس گئے۔ بھائی بھائی سے فاصلہ رکھنے پر مجبور اور حکومتوں کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے، کورونا سے چھٹکارا یا بچاؤ۔

چھوٹی بڑی معیشت اور یورپی اتحاد کے سب سے بڑے داعی ٹی وی پر آئے اور برملا اعلان کیا۔ فرانس اتنی بڑی آفت کیلئے تیار نہیں تھا۔ ہمیں صورتحال کو سمجھنے میں دیر لگی اور ہم سے کافی غلطیاں ہوئیں۔ یورپی اتحاد اور مدد کا جذبہ دم توڑ گیا اور کورونا سے لڑنے والی تمام چیزوں کو دوسرے ممالک کو بھیجنے پر پابندی لگا دی گئی گویا کہ ہر ملک کو بس اپنی ہی پڑ گئی۔ جرمنی کے معیشت کے وزیر نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھ کر خودکشی کرلی۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، شہزادہ چارلس اور روسی وزیراعظم کو وائرس نے گھیر لیا۔ بورس تو زندگی کی بازی ہارتے ہارتے بچے۔

جہاں وائرس نے کچی گلی میں رہنے والے مزدور کو دبوچا وہیں پر کینیڈا اور اسپین کی خواتین اول کو بھی بیمار کر دیا۔ چھوٹے اور غریب ملکوں نے اپنے زمینی آقاؤں کے آنے پر پابندی لگا دی۔ مریضوں کو بچانے والے مسیحا خود وائرس کا شکار ہوگئے اور تو اور دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کے سمندری جہاز بھی اس وائرس سے محفوظ نہ رہ سکے۔ فرانس کا بحری بیڑہ چارلس ڈیگال جو کہ سمندر میں تھا وائرس کی زد میں آ گیا اور اس پر موجود بارہ سو سے زائد لوگ کورونا زدہ ہوگئے۔

دوسری طرف عبادت گاہوں پر تالے لگ گئے، کعبۃ اللہ مخلوق کے لئے بند کر دیا گیا، مسجد نبوی شریف  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں  جانے پر پابندی عائد ہوگئی۔ مقبؤضہ بیت المقدس میں قدیم چرچ (Holy Sepulere) سات سو سال میں پہلی مرتبہ بند کر دیا گیا۔ مسجدیں، مندر، دربار تمام وہ مقامات جہاں مخلوق کا خالق کے ساتھ تعلق استوار کیا جاتا ہے انسانوں کی رسائی سے باہر ہوگئے۔

ماہرین طب نے کہا یہ ایک طبی بحران ہے، معیشت دانوں نے اسے 1930 کے بعد سب سے بڑا معاشی بحران گردانا۔ عالمی سیاستدانوں نے کہا کہ ایک نیا ورلڈ آرڈر ابھرنے والا ہے۔ ہنری کسنجر نے تو دنیا کے لیڈران کو اس جدید ورلڈ آرڈر کے نکات واضح کرنے کو کہہ دیا۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین نے سوچا کہ اس وباء کے ختم ہونے پر انسان سائنس کی ایک اور دنیا میں قدم رکھنے جا رہا ہے۔ اسی طرح جس نے جس رخ سے اس بحران کو دیکھا اسی رخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بحران کا حل بھی پیش کیا۔

مگر حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وائرس کے پھیلنے کے ظاہری اسباب پر تو بات ہو رہی ہے مگر پردے کے پیچھے کے معاملات کو بحث کا حصہ نہیں بنایا جا رہا۔ وائرس ووہان کی مارکیٹ سے نکلا یا لیبارٹری میں بنایا گیا، بحث ابھی یہاں تک محدود ہے۔ یہ جانچنے کی کوشش نہیں کی جارہی کہ آخر کار یہ وائرس بازار میں یا لیبارٹری میں پیدا ہوا کیوں اور کیونکر یہ انسانیت کا دشمن بن کے سامنے آیا۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے کہ اچانک کسی درخت کو کوئی بیماری لگ جائے اور ہم اس کا حل درخت کے پتوں، شاخوں اور تنے میں ڈھونڈتے رہیں اور اس کی جڑوں کو سرے سے محض اس لیے بھول جائیں کہ وہ ہماری نظروں سے اوجھل ہیں۔

اس وباء کا تعلق ظاہری اسباب کے ساتھ یقینا ہے اور اس کا حل بھی آخر کار ظاہری بنیادوں پر یعنی دوائی، ویکسین کی شکل میں ہی ہو گا مگر حقیقی طور پر اس اور آنے والے اس جیسے بحرانوں سے چھٹکارا تبھی ممکن ہے کہ جب ہم ان ظاہری اسباب کے ساتھ ساتھ پوشیدہ محرکات کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ ان چھپے ہوئے محرکات کو سمجھنے کا خیال آیا تو۔ نیند میں بھی خلل آنا شروع ہوگیا۔ اچانک دل کی چوکھٹ پر دستک ہوئی۔ وہ کہنے لگے اتنا کچھ پڑھ بھی لیا اور سن بھی لیا ذرا دھیان اس نسخہ کیمیاء کی طرف بھی ہو جائے جو کتاب بڑی حکمت والے بڑی خیر والے کے ہاں سے ہے، اس کی آیات پختہ تر رکھی گئی ہیں اور انہیں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ (حود۔1 )

یہ وہی کتاب ہے کہ جس کے متعلق اٹل بات ہے کہ ’زمین یا آسمان میں ایک زرہ برابر بھی کوئی شے ایسی نہیں جو یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردگار سے اوجھل ہو اور اس سے بھی چھوٹی یا بڑی کوئی چیز ایسی نہیں جو واضح کتاب میں موجود نہ ہو، (یونس 2)

اور پھر یہ کہ بیشک ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا ذکر موجود ہے۔ الانساء10

جب یہ سرگوشی نہایت اطمینان بخش معلوم ہوئی تو ہمت کرتے ہوئے قرآن مجید کو کھولا اور التجاء کی کہ مالک تعالی اس کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس یقین کو کہ قرآن مجید میں اس وباء اور مصیبت کے اسباب اور حل موجود ہیں۔ اس آیت کریمہ سے مزید پختہ ہو گیا۔ اللہ تعالی فرما رہا ہے۔ زمین میں اور تمہاری جانوں میں جو بھی مصیبت آتی ہے اس سے پہلے کہ ہم اس مصیبت کو پیدا کریں وہ ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ الحدید۔22

قرآن مجید شفاء ہے، نور ہے، رحمت ہے، حق اور باطل کو الگ الگ کرنے والی کتاب ہے اور پھر قرآن حکیم نے یہ سب کچھ بتا کر سوال اٹھا دیا۔ یہ لوگ قرآن حکیم میں غور کیوں نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں؟ (محمد24) جواب میں شرمندگی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس عظیم پیغام نے پھر کہا سنو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کے ہاں سے وہ کچھ آیا ہے جس میں تمہیں سب کچھ سمجھا دیا گیا ہے اور جو کچھ سینوں کے اندر ہے اس کی شفاء ہے اور ایمان والوں کیلئے ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی۔ یونس 57

قرآن مجید کی پاک آیتیں نظروں کے سامنے آتی جا رہی تھیں اور ذہنی تناؤ دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ بلاججھک قرآن کریم کے سامنے میں نے کچھ سوال رکھ دیئے وہ کچھ یوں ہیں۔

کیا یہ کورونا کی وبا محض حادثاتی ہے یا مالک کے ہاں سے بھیجی گئی ہے؟

وباء یا بلاؤں کا دنیا میں بپا ہونے کے پیچھے راز کیا ہے؟

اگر یہ کسی خاص امر کی وجہ سے دنیا پر نازل ہوئی ہے تو وہ امر کون سے ہیں؟

اس وباء سے چھٹکارہ کیسے ممکن ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے؟

سوال نمبر ایک یعنی اس وباء کا پھوٹنا محض حادثاتی ہے اور زمینی ہے یا اس کو مالک تعالی کے ہاں سے بھیجا گیا ہے کے جواب میں قرآن مجید نے ہر چیز تفصیل سے بیان فرما دی۔ سورۃ سبا آیت نمبر 15,16,17 سبا والوں کے لیے ان کے مسکن میں نشانی تھی دو باغ ایک دائیں ایک بائیں اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر بڑا پاکیزہ اور پروردگار بخشنے والا ہے۔ تو انہوں نے منہ پھیر لیا ہم نے اس کیلئے ایک زور دار سیلاب بھیج دیا اور ان کے دو باغوں کی جگہ ایسے باغ بنا دیئے کہ دونوں کے پھل بدمزہ تھے ان میں کچھ خود رو پودے تھے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ سبا یمن کا ایک خوشحال علاقہ تھا سبا کے لوگوں کی زندگیاں مزے میں بسر ہو رہی تھیں۔ اناج کی کوئی کمی نہ تھی۔ پھل بھی وافر میسر تھے۔ ان کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اس زمانے میں پانی جمع کرنے کیلئے ایک ڈیم بنا رکھا تھا۔ معارب کے نام سے جو کہ اس وقت کے لحاظ سے فن تعمیر کا ایک نمونہ تھا۔ اچانک اس کی دیواروں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ڈیم زمین بوس ہو گیا۔

ڈیم سے خارج شدہ پانی علاقے اور اس کے مکینوں پر قیامت بن کر آیا اور اس نے کھیت کھلیان، گھر بار ہر چیز کو برباد کر دیا۔ سر کی آنکھ سے دیکھنے والے اور سائنس کی ایک سطح تک رسائی پر تکیہ کرنے والے آج بھی اس واقعہ کو ایک حادثہ ہی سمجھیں گے مگر خالق کائنات نے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ وہ سیلاب جو ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ سے آیا دراصل وہ اللہ نے بھیجا اور بھیجا اس وجہ سے کہ سبا کے لوگ اللہ تعالی کو بھلا کر ناشکری کی کیفیت میں چلے گئے تھے۔

بظاہر تو اللہ پاک کی ناشکری اور ڈیم کے مسمار ہونے میں کوئی تعلق نظر نہیں آتا مگر جب علامہ اقبال کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے وجدان عقل کی حدوں کو وسیع کرتے ہوئےhigher intellect کی فضاء میں پرواز کرتا ہے تو دنیا میں وقوع پزیر ہونے والے حادثات کے اصل محرکات کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

کاش کہ ہم حوادث جن میں بیماریاں، قحط، سیلاب و زلزلوں اور جنگوں سب ہی کچھ شامل ہے ان سب کو محض ظاہری اسباب میں ہی نہ تولیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان محرکات پر بھی غور کریں جن کو عقل اپنی ناپختگی کے باعث سمجھنے سے قاصر ہے۔

اس ضمن میں ایک اور آیت کا مطالعہ فرمائیں سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر4 اور ہم نے بنی اسرائل کیلئے کتاب حق میں طے کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ خرابیاں پھیلاؤ گے اور بہت بری سرکشی کر دکھاؤ گے اور جب پہلی مرتبہ کا وقت آیا تو ہم نے تمہارے خلاف اپنے ایسے بندے بھیجے جو سخت جنگجو تھے وہ سارے شہروں کے اندر جاگھسے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا تھا۔ ہم نے دوسری بازی تمہارے ہاتھ میں دے دی، ہم نے مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تمہیں تعداد میں اکثریت والا بنا دیا۔ اگر تم نیکی کرو گے تو اپنے لیے کرو گے اور برائی تو وہ تمہارے اپنے لیے ہی ہوگی۔ جب دوسری مرتبہ کا وقت آیا تو وعدہ یہ تھا کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد میں اس طرح گھس جائیں جیسے انہوں نے پہلی مرتبہ کیا تھا اور جو شے بھی ان کی زد میں آئے اسے برباد کر ڈالیں۔

اس آیت کریمہ میں دو جنگوں کا ذکر ہے۔ تاریخی لحاظ سے پہلی جنگ میں جالوت نے اور دوسری جنگ میں مجوسیوں نے بنی اسرائیل پر مظالم ڈھاتے ہوئے انہیں اپنا غلام بنایا۔ ان جنگوں کے اسباب عقلی بنیادوں پر تو اس وقت کی سیاسی، معاشی یا معاشرتی صورتحال میں ڈھونڈنا چاہئیں مگر اللہ تعالی نے ان جنگوں کو جو کہ بنی اسرائیل پر مصیبت بن کے ٹوٹیں، بنی اسرائیل کی سرکشی کی وجہ سے مسلط کیا۔ ادھر خدا تعالی کا بنی اسرائیل کو سزا دینا جنگوں کی صورت میں تھا۔ قرآن کے مطابق انسانوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے سزائیں کبھی سیلاب کی شکل میں کبھی جنگوں کبھی بیماریوں اور طرح طرح کے حادثات کی شکل میں اتریں۔

اس آیت میں ایک اور طرف بھی اشارہ ہے وہ یہ کہ رب تعالی گرفت کرنے کے بعد آسانی اور فراوانی سے نوازتا ہے۔ بچت اس میں ہے کہ ایک دفعہ مار کھانے کے بعد انسان راہ راست پر آجائے۔ مگر جب وہ سزا کو بھلا بیٹھتا ہے اور پھر آسائشوں میں گم ہو کر اپنے آقا کو بھلا بیٹھا ہے تو پھر جو عذاب اس کا مقدر بنتا ہے وہ نسلیں یاد رکھتی ہیں۔

آپ اتفاق کریں گے کہ بظاہر کان، ناک، ہاتھ میں کسی کیڑے مکوڑے کا چلے جانا کوئی اچھنبے کی بات تو نہیں، یہ کسی کے ساتھ کسی وقت بھی ہوسکتا ہے مگر نمرود بن کنعان جیسے گھمنڈی بادشاہ کے دماغ میں مچھر کا جانا اور تین سو سال تک اس کا اس تکلیف میں مبتلا رہنے کے بعد مرنا یقینا اس کی سرکشی کی سزا ہی تھی۔ علاوہ ازیں سورۃ حشر آیت نمبر2 میں قرآن مجید قبیلہ بنو نصیر کے لوگوں کا رسول اللہ کے ساتھ عہد شکنی، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بنو نصیر کا محاصرہ اور پھر اس قبیلے کا اپنے گھروں کو ویران کر کے بھاگنے کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے۔ اس گھمنڈ میں تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے عذاب) سے بچالیں گے پس ان پر اللہ کا عذاب ایسی جگہ سے آیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، یہ تھی ان لوگوں کی سزا جو ناشکرے، وعدہ توڑنے والے تھے۔

سورۃ التوبہ، آیت نمبر126 کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کو ہر سال ایک یا دو مرتبہ آزمائش میں ڈالا جاتا ہے پھر بھی وہ توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں محدثین اور علماء نے سال میں ایک یا دو مرتبہ آنے والی آزمائش کو بیماری، قحط، رزق میں رکاوٹوں سے تعبیر کیا ہے۔ نوکری چھوٹنے کے پیچھے یا کسی سے ناچاکی کی وجہ تو بن ہی سکتی ہے اور ظاہراً قحط بارشیں نہ ہونے پر ہی آئے گا۔ فصل کا خراب ہونا کسی بیماری کا ہی نتیجہ ہوگا اور انسان کا بیمار ہونا وائرس یا بیکٹیریا کا حملہ ہی ہوگا۔ مگر ان تمام عوامل کے پیچھے امر ربی سے انحراف کیونکر ممکن ہے۔

قرآن مجید برملا اعلان کر رہا ہے انسان گھاٹے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک عمل کیے جو حق پے گامزن رہے اور جنھوں نے صبر کے دامن کو کبھی نہیں چھوڑا۔ قرآن بار بار پکار رہا ہے زندگیوں میں تنگی، بیماریاں، رزق میں کمی، جنگیں، وبائیں و دیگر چیزیں جو انسانیت کیلئے پریشانی کا سبب ہیں وہ اللہ کی طرف سے بھیجی گئیں آزمائشیں ہیں۔ ان کی وجوہات انسان کی سرکشی، غرور، ظلم، حرام اشیاء کو حلال جاننا، ناپ تول میں کمی، اخلاقیات سے گری ہوئی حرکتیں ہیں جو مالک تعالی کیلئے غصے کا سبب بنتی ہیں۔

کورونا وائرس کا دنیا کو ہلا کے رکھ دینا، پوری انسانیت کو گھروں میں محصور کر دینا، لاکھوں افراد کی فوتگی اور تکلیف میں مبتلا ہونا، ان تمام عوامل کو صرف سر کی آنکھوں سے دیکھنا اور محدود عقل کے پیرائے میں سمجھتے ہوئے پوشیدہ محرکات سے غافل رہنا نہ جانے کتنی عقلمندانہ سوچ ہوگی۔

اب ہم دوسرے سوال کی طرف چلتے ہیں کہ ایسی آزمائش، تکلیفیں مالک تعالی کی طرف سے کیوں بھیجی جاتی ہیں۔ خاص طور پر موجودہ کورونا وائرس کی وباء کا دنیا میں پھوٹنا کن عوامل کا نتیجہ ہے۔ یا اللہ تجھے ناتواں مخلوق کومشکل میں ڈال کر کیا ملے گا تو اس کا بھی جواب مل گیا۔

اور ہم انہیں بڑے عذاب کے علاوہ چھوٹا عذاب بھی دیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں اس سے زیادہ ظالم کون ہے کہ اس کے پاس پروردگار کی آیات کے ذریعے نصیحت آگئی تو وہ اس سے منہ پھیر لے گا۔ ہم مجرموں سے ضرور انتقام لینے والے ہیں۔ السجدہ 21-22

پھر فرمایا سورۃ الروم آیت30 میں لوگ جو کچھ کر چکے ہیں اس کے سبب خشکی اور تری میں خرابیاں پھیل گئی ہیں تاکہ اللہ تعالی لوگوں کو ان کے کچھ اعمال کا مزہ چکھائے شاید وہ اسی طر ح لوٹ آئیں۔ آیت نمبر168 پڑھ کر تو ایسا لگا جیسے کہ قرآن ہمارے بارے میں ہی فرما رہا ہو کہ ملک کے دو ٹکڑے کر کے گروہوں میں بانٹ دیئے تاکہ وہ راہ راست پر آجائیں۔

قرآن کریم بالکل صاف صاف الفاظ میں ہم سے مخاطب ہے۔ سورۃ الانعام آیت نمبر 131-132 یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پروردگار ظلم کے طور پر بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے۔ جب وہاں کے رہنے والوں کو پتہ بھی نہ ہو اور سب کے درجے ان کے اعمال کی وجہ سے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں یا رسول اللہ آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے۔ قرآن کریم میں بار ہا بتایا گیا ہے مالک تعالی کے ہاں سے ظلم کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اسے کیا پڑی کہ وہ جہنم کو اس مخلوق سے بھرتا جائے کہ جس کو اس نے خود تکریم بخشی اور نہایت احسن اسلوب پر بنایا، جسے وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ اسی موضوع کو ایک اور جگہ پر قرآن مجید نے کچھ اس طرح بیان فرمایا۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے اے انسان تجھے کوئی بھی اچھی بات حاصل ہو تو یاد رکھ وہ اللہ تعالی ہی کے ہاں سے ہے اور کوئی خرابی ہو تو وہ تیری اپنی ہی طرف سے ہے۔ النساء 79

پھر سورۃ الانعام میں آیت نمبر6 میں فرمایا ہم نے پھر ان کے گناہوں کے سبب انہیں ہلاک کر دیا ان کے بعد ایک دوسرے سے ہی دور کے لوگوں کو تیارکر لیا۔ اس بات کو ایک نئے انداز میں فرمایا جو لوگ اہل زمین کے بعد زمین کے مالک بنتے ہیں کیا اس بات سے ان کی راہنمائی نہیں ہوتی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر آفت ڈال دیں اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں تو وہ کوئی بات سنتے ہی نہیں۔ الاعراف 100

ان آیات کی روشنی میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رب تعالی کا انسان کو تکلیف میں مبتلا کرنا شیوا نہیں ہے۔ وہ تمام تر تعریفوں کا مالک ہونے کے باوجود اپنا تعارف سب سے پہلے الرحمان و الرحیم سے کرواتا ہے اور قرآن مجید اس چیز کا اعلان کرتا ہے کہ اللہ تو وہ ہے کہ جس نے رحمت کو اپنی جان پر غالب کر رکھا ہے۔

وباؤں اور بلاؤں کی شکل میں انسانیت پر تکالیف آنا یقینا رب تعالی کی ناپسندیدگی کا اظہار تو ہے ہی مگر اس میں بھی اس کے ہاں سے ایک پیغام ہے۔

اس ضمن میں یہ آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیے اور ہم انہیں ضرور چھوٹا عذاب دیکھائیں گے، بڑے عذاب کے سوا تاکہ وہ لوٹ آئیں السجدہ 21 پھر سورۃ طہ آیت نمبر 113 اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی میں اتارا اور بار بار سزاؤں کی خبر سنائی تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

اسی طرح کی بے شمار آیتیں قرآن مجید میں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان پے کڑا وقت نصیحت اور تنبیہہ کیلئے آتا ہے کہ وہ سدھر جائے اور صراط مستقیم پر گامزن ہو جائے۔ ان آیات کے علاوہ وہ آیات بھی ہیں جن میں بستیوں کے تباہ و برباد کرنے کا بھی ذکر ہے۔ سورۃ عنکبوت، ھود اور کئی سورۃ میں قوم عاد و نمود، قوم لوط کے قصے جگہ جگہ ملتے ہیں۔ غالبا یہ بدقسمت لوگ وہ تھے جن پر کوئی نصیحت کار گر نہ ہوئی اور وہ غرق کر دیئے گئے۔

کورونا قرآن کی روشنی میں ایک نہایت کڑی وارننگ ہے، گرفت ہے خالق کی طرف سے اور بلاوا ہے کہ آجا صحیح صاف ستھرے سیدھے راستے پر۔

اب وہ تیسرا سوال کہ ایسے کون سے گناہ سرزد ہو رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے یہ عذاب دنیا پر بھیجا گیا۔ اس موضوع پر بھی قرآن مجید راہنمائی فرما رہا ہے۔ پچھلی اقوام کو آزمائشیں، عذاب یا مشکلات ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے آئے۔ کبھی ناپ تول میں کمی کے باعث، کبھی غرور اور گھمنڈ، کبھی غیر فطری حرکات کی وجہ سے کبھی عہد شکنی، کبھی اللہ کے بندوں کا مذاق اڑانے پر، کبھی بخل، کبھی آیات کو جھٹلانے پر، تہمت باندھنے پر، اور کبھی اللہ کے واضح احکامات کو مذاق سمجھنے اور جھٹلانے پر۔

دیکھا جائے تو ان تمام باتوں میں سے کون سی چیز ہے جو آج کل موجود نہیں۔ ناپ تول میں فرق تو وطیرہ بن چکا ہے۔ سود جو کہ قرآن کی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی سے جنگ ہے دنیا کے معاشی نظام کی اساس ہے، ہم جنسی کو قانونی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے، جنگی سازو سامان اور دولت کے نشے میں چور انسان خود کو خدا سمجھ بیٹھا ہے۔ مظلوم اور نہتے انسانوں پر جیسا ظلم آج کل ہو رہا ہے، غریب کا استحصال جو آج کل ہے وہ شاید ہی دنیا کی تاریخ میں پہلے بھی ہوا ہو۔ صرف کبیرہ گناہ کی بات ہی نہیں بلکہ ہم روز مرہ کی زندگی میں کچھ ایسا کر جاتے ہیں جو اللہ کے ہاں سے غصب کا باعث بنتا ہے اور ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا۔ ظاہرا ہمارا عمل تو ٹھیک ہی ہوتا ہے مگر نیتوں کی خبر رکھنے والے کے ہاں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ دیکھیے قرآن کریم اس آیت میں کس طرف نشاندہی کر رہا ہے۔

انھوں نے اللہ اور اس کے رسول سے کفر کیا ہے وہ نماز پڑھنے آتے ہیں تو بڑے ہی ڈھیلے اور ڈھالے خرچ کرتے ہیں تو بڑا برا جان کر۔ تو ان کے مال اور اولاد سے آپ کو کوئی تعجب نہ ہو اللہ تعالی چاہتا ہے کہ ان کی وجہ سے انہیں دنیوی زندگی میں عذاب دے دے اور ان کی جان نکلے تو وہ کافر ہی ہوں۔ التوبہ 55

اور ذرا یہ بھی دیکھئے سورۃ التوبہ کی آیت نمبر34  اے ایمان والو اہل کتاب کے بہت سے بزرگ اور راہب لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں درد ناک عذاب (جہنم)کی نوید دیجئے۔

اپنے بڑوں سے سنا کرتے تھے کہ پہلے بے نمازی منہ چھپاتا پھرتا تھا، آج کل نمازی کو طعنے سننے پڑتے ہیں۔ رشوت خوری کو لعنت سمجھا جاتا تھا۔آج کل حق سمجھا جاتا ہے۔ کسی وقت شراب پینا باعث شرم تھا اور اب سوشل اسٹیٹس کی پہچان۔ غریبوں، بیواؤں، یتیموں کا مال غصب کرنے والے دندناتے پھرتے ہیں اور شرفاء چھپتے چھپاتے دین کی بات کرنے والا دقیانوسی سمجھا جاتا ہے، داڑھی والا مولوی اور مولوی معاشرے کا اچھوت گو کہ صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔

پچھلی عوام کے اعمال کو اگر معیار بنا لیا جائے تو شاید آج کل کے بیشتر لوگ جس عذاب کے مستحق ہیں وہ بیان سے باہر ہے۔ وجدان اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یقینا یہ نبی رحمت کا فیضان اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا صدقہ ہے جو کہ دنیا کسی بڑے عذاب سے بچی ہوئی ہے۔

حضرت ابوحریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال ایسی ہے کہ ایک شخص آگ روشن کرے اور پھر پتنگے اس آگ میں جلنے کیلئے لپکیں اور وہ شخص ان کو پکڑ پکڑ کر آگ سے بچائے،  یہ بے شک آپ نبی رحمت کا صدقہ ہے کہ انسانیت کئی ایسے عذابوں سے مستثناء ہے جو کسی پہلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔

بحث کے اس مقام تک پہنچ کر اس سوال کا ابھرنا کہ اگر مختلف قسم کی سختیاں بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں تو پھر ان سے نیک اور صاحب ایمان لوگ کیونکر مثاثر ہوتے ہیں کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ اس سوال کا جواب بھی قرآن کریم نے واضح الفاظ میں دیا ہے۔ البقرہ آیت نمبر 155 اور البتہ ہم تمہیں کچھ ڈر، بھوک اور (تمہارے) مالوں، جانوں اور پھلوں کے نقصان میں ضرور مبتلا کریں گے، اور ان صبر کرنے والوں کو بشارت ہے اور اسی سورۃ میں اسی موضوع کو مزید بیان کرتے ہوئے مالک تعالی فرماتا ہے آیت 214 کیا تم نے یہ گمان کر لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤگے؟ حالانکہ ابھی تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آتیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آتی تھیں، ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچتیں اور وہ جھنجھوڑ دیئے گئے کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان والے پکار اٹھے کے اللہ کی مدد کب آئے گی؟ سنو اللہ کی مدد عنقریب آئے گی۔

پاک باز لوگوں کو آزمائشیں قدم قدم پر ملتی ہیں۔ مقام جتنا بلند ہوتا ہے امتحان اتنا ہی مشکل ہوا کرتا ہے۔ جب یہ ثابت قدم لوگ اللہ تعالی کی مہربانی سے آزمائش سے صبر کا دامن تھامے نکل جاتے ہیں تو کریم آقا کی ان گنت نوازشات ان کا خیر مقدم کرتی ہیں اور ان کو مزید بلندیوں کا سندیس دیتی ہیں۔

بیشتر احادیث مبارکہ اور آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو پاک باز لوگ کسی وباء کا شکار ہوتے ہیں تو انھیں ان کے مالک کے ہاں سے بہترین اجر ملتا ہے۔ حدیث کی رو سے وباء سے ہلاک اہل ایمان لوگ شہید ہیں اور یہ کیسا ہی بہترین رتبہ ہے۔

عذاب اور آزمائش میں بڑا باریک مگر واضح فرق ہے اس فرق کو مولائے کائنات حضرت علی شیر خدا کے قول مبارک سے بہتر بیان کیا جاسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا جو سختی اپنے رب کے قریب کر دے وہ آزمائش ہے اور جو اس سے دور لے جائے وہ عذاب۔

ان سوالات کے بعد یہ قدرتی بات ہے کہ پوچھا جائے کہ اس وباء سے نکلا کیسے جائے تو قرآن مجید نے اس کا بھی جواب کئی آیات میں دے رکھا ہے۔ پہلی بات تو یہ سمجھ لینی چاہیئے کہ

اور اگر اللہ آپ کو کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اس تکلیف کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ آپ کے لیے کسی خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کوچاہتا ہے اپنا فضل پہنچاتا ہے اور وہی بے حد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے۔ یونس 107

بیشتر قرآنی آیات واضح کرتی ہیں کہ عزت، ذلت، رزق کی کشادگی اور تنگی، بیماری اور شفاء، اولاد، موت و حیات ہر ایک چیز کا مالک اور سنبھالنے والا اللہ تعالی ہی ہے۔ وہ کن فیکون کا مالک جس لمحے چاہے گا امراض، وباؤں اور بلاؤں کو انسانیت سے دور کر دے گا۔ جس لمحے حکم دے گا انسان کے پاس کورونا کا علاج دستیاب ہو جائے گا۔ مگر وہ کب ہوگا۔

اس سوال پر بھی قرآن راہنمائی فرما رہا ہے۔ سورۃ انفال 33 آیت اور نہ اللہ انہیں عذاب دینے والا ہے، جب کہ یہ استغفار کر رہے ہیں۔ سورۃ الطلاق آیت نمبر2 اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کیلئے نجات کی راہ پیدا کر دیتا ہے۔

ان آیات کے علاوہ بہت سی آیات ہماری راہنمائی فرما رہی ہیں کہ پرہیزگاری و استغفار سے پچھلی قوموں نے آنے والے عذاب کو رکوا دیا۔ بار بار قرآن مجید میں اللہ پاک مخلوق کو متوجہ کر رہا ہے۔ اے لوگو مجھے پکارو تو سہی، کرم کی بارشوں میں نہلا نہ دوں تو پھر کہنا۔ وہ فرما رہا ہے جب تکلیف میں مجھے صدائیں دیتے ہو تو میں سنتا ہوں اور میں ہی تمہاری تکلیف رفع کرتا ہوں۔ مگر پر جب راحت کا سامان میسر آ جاتا ہے تو پھر تم اپنے اللہ کو اس طرح بھول جاتے ہو کہ تمہیں کبھی تکلیف آئی ہی نہ تھی۔

مختصرا اس وباء کا دائمی حل صرف اللہ تعالی کی رضا میں پنہاں ہے اوراس کی رضا مخلوق کی توبہ استغفار میں رکھی ہے اگر کوئی چارہ ہے تو اس کے دربار مقدس میں جھک جانے اور توبۃ النصوح کا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل بھروسہ مند ثابت نہ ہوگا۔

مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہ اخذ کیا جائے کہ تمام لوگ مصلے پر بیٹھ جائیں اور کورونا کش دواء تیار کرنے کی جستجو روک دیں۔ ہر گز نہیں اس وباء کو ختم کرنے کیلئے ظاہری علاج دریافت کرنا ہوگا۔ مگر یہ خیال رہے کہ اسباب کی کھوج میں مسبب الاسباب کی یاد دل سے نکل نہ جائے۔ سائنس کو ہی خدا نہ بنا لیا جائے بلکہ اللہ تعالی کے پیدا کردہ عوامل و اسباب کو بروئے کار لانے کے عمل کو ہی سائنس سمجھا جائے تاکہ سائنس کو معاذ اللہ، خالق کائنات کے مد مقابل نہ لاکھڑا کیا جائے۔

سائنسی ترقی ناگزیر ہے، قرآن خود علوم کو حاصل کرنے اور ان میں ترقی کی دعوت دیتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ علم کی اہمیت کو جس انداز سے واضح کرتی ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ ہر قدم پر اہل علم سے مشورہ بیماری میں مستند طبیب سے علاج کروانا، ماں کی گود سے قبر تک حصول علم کی جستجو اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔ اسلام کو سائنس کے متضاد لا کھڑا کرنا کج فہمی اور لاعلمیت کے سوا کچھ نہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطہء حیات ہے، ایک روشن طریق ہے اور خوشگوار و خوبصورت زندگی کی تلقین کرتا ہے سائنس اس صحت افزاء طریقے پر چلنے پر خاصی مددگار ہو سکتی ہے۔

قرآن مجید برملا اعلان کر رہا ہے کہ انسان جس چیز کی جستجو کرتا ہے اسے پا لیتا ہے اور یہ بھی کہ بغیر جستجو کیے اللہ کے احسان کی امید رکھنا اندھیرے میں ٹامک ٹوٹیاں مارنے کے سوا کچھ نہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی تمام صلاحتیں بروئے کار لاتے ہوئے دواء کی جستجو جاری رکھی جائے مگر ساتھ ساتھ اس رب تعالی کی چوکھٹ پر دستک ہوتی رہے کہ وہ مہربانی فرما دے۔ وہی ہے جو چیزوں میں تاثیر پیدا کرنے والی ذات ہے اور کیا ہی خوبصورت سیدنا ابراھیم  علیہ السلام کا واقعہ ہے سورۃ الانبیاء آیت 69 میں کہ آگ جس کا کام جلانا ہے اسے حکم ہوتا ہے کہ  میرے ابراھیم کیلئے گلزار بن جا  گویا کہ تاثیر امر ربی ہے۔ دواء کا مؤثر ہونا اللہ تعالی کا امر ہے۔ جس لمحے اس کی رحمت جوش میں آئی ہماری کوششوں میں تاثیر آ جائے گی، دوا بھی حاصل ہو جائے گی اور دوا کو وائرس مارنے کا حکم بھی ہو جائے گا صرف بات ہے اس کی رضا کی۔

یہ وقت ہے سر بسجود ہونے کا، معافی طلب کرنے کا، یا اللہ کریم اے پالنہار، اے معاف کر دینے والے ہم پر ترس کھا، ہماری گرفت نہ کر، بخش دے ہمیں اس چادر اوڑھنے والے کے صدقے، ہمیں تیرے در تیری چوکھٹ کے سوا کچھ اور نہیں پتا، گناہ سرزد ہوئے ہیں مگر ہم تیرے ہیں معاف فرما اپنی چوکھٹ ہمارے لیے کھول دے۔ تجھے تیرے حبیب مکرم کا واسطہ گرفت ڈھیلی کر دے، حکم تیرا ہے، بادشاہت تیری کمزوروں کو معاف کر دے پروردگار۔ توہی نے تو ہمیں سکھایا ہے کہ ہمیں تیری  رحمت سے ہرگز ہرگز ناامید نہیں ہونا ہم تجھ سے امید لگائے بیٹھے ہیں ہماری جھولیاں خالی ہیں ان جھولیوں کو اپنی رضا کے خزانے سے بھر دے معاف کر دے پروردگار (آمین)

ان تمام آیاتِ قرآنی کے مطالعے کے بعد جو ایک تصویر کورونا بحران سے متعلق بنتی ہے وہ کچھ یوں ہے۔

 حاصل بحث

یہ بحران انسان کے خود کردہ ظلم اور دیگر بداعمالیوں کا نتیجہ ہے اور اللہ تعالی کے ہاں سے ایک خاص پیغام لے کر نازل ہوا ہے۔

کورونا وائرس کی وباء گمراہوں، دل و دماغ کے اندھوں کیلئے عذاب، بھولے بھٹکے ہووں کیلئے تنبیہ اور مشکل اور متقی پرہیزگاروں کیلئے باعث رحمت ہے۔

بہت سے دروازے بند ہو چکے ہیں مالک اور اس کے حبیب روٹھے ہوئے ہیں، صرف ایک دروازہ کھلا ہے اور وہ ہے توبہ کا، معافی کا۔

یُوں تو یہ امتحان تمام مخلوق کا ہے مگر حکومتوں کی خاص گرفت کی گئی ہے۔ بتاؤ حکمرانوں تم نے تمام تر وسائل ہونے کے باوجود عوام کی ضروریات کا کہاں تک خیال رکھا۔ اس وباءنے آج کل کی ترقی جس پر انسان بڑا ناز کرتا ہے کا پول کھول دیا ہے۔ انسان کو اس کا صحیح چہرہ شیشہ میں نظر آنے لگا ہے۔

مسلمان ممالک کو اور ان میں رہنے والوں کو خاص جھنجھوڑا گیا ہے، جاگو، امانت اب تمہارے پاس ہے۔ اس کے اہل بنو، اپنے رویوں کو بدلو، ہوش کے ناخن لو۔

یہ وباء دنیا میں بپا ہونے والی نہ پہلی وباء ہے نہ آخری مگر اس دفعہ اس وبا سے گزر جانے والے اگر زندگیاں نہ سنوار سکے تو پھر ایک اور امتحان کے لیے تیار رہیں۔ وہ بھی جلدی۔

عالمی وبائیں اپنے ساتھ عالمی تبدیلیاں لایا کرتی ہیں۔ کورونا کی وباء بھی دنیا پر نا مٹنے والے نشان چھوڑ جائے گی۔ بہت سی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ انسانیت کی بقاء کے لیے نئے دروازے کھلیں گے۔ لازم ہے کہ ان تبدیلوں کے ساتھ انسان خود اپنے آپ کو بھی بدلے ورنہ معاشرتی تبدیلیاں کچھ زیادہ مؤثر ثابت نہ ہوسکیں گی۔

ظلم کا نظام ختم نہ ہوا تو ایک بہت بڑا عذاب چاہے جنگوں کی صورت میں، وباء یا آفت کی صورت میں تیار کھڑا ہے جو بہت درد ناک ہوگا۔

ہمیں اللہ تعالی اس ناگہانی بحران سے سیکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنی زندگیوں کو بہتر کرنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وہ بصیرت حاصل ہو کہ اس بحران سے ہم بہتر ہو کر نکلیں (آمین)

زبرنیوز یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو