این ڈی ایم اے کی رپورٹ مسترد

محمد عثمان

چیف جسٹس گلزار احمد نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم سے کہہ دیتے ہیں پورے این ڈی ایم اے کو فارغ کردیں، کسی کو پیسہ کھانے نہیں دیا جائےگا۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کی ، چیف جسٹس نے پوچھا کہ چین سے الحفیظ کے نام پر منگوائی گئی مشینری کے کاغذات کہاں ہیں ؟ یہ الحفیظ ہے کیا ، مالک کون ہے ؟ تین بار حکم دیا لیکن دستاویزات نہیں دی گئیں۔

ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایل سی کمپنی نے خریدی اور کسٹم ڈیوٹی دی ، کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے درآمد نہیں کی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مسئلہ قوانین پر عمل نہ ہونے کا ہے، عدالتی احکامات کی تضحیک کی گئی، کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ؟ ایک ہی کمپنی کو کیسے رعایت دی گئی ؟ ایک کروڑ 7 لاکھ 25 ہزار روپے اسے دیئے جسے دیئے ہی نہیں جاسکتے تھے، کسٹم ڈیوٹی بھی کیش میں دی گئی، کوئی ضرور گڑبڑ کررہا ہے، عدالت نے کہا کہ این ڈی ایم اے نے ڈریپ کی اجازت سے ویکسین درآمد کی ، درآمد کے کاغذات کہاں ہیں؟ وہ ویکسین کہاں گئی؟

سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ مسترد کردی اور کہا کہ سمجھ نہیں آرہی این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا اٹارنی جنرل صاحب یہ کیا تماشہ چل رہا ہے ؟ لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ختم کرنا پڑے گا، کیوں نہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں ؟ اس پر اٹارنی جنرل نے این ڈی ایم اے کا جواب واپس لینے اور دستاویز سمیت جامع جواب جمع کرانے کی اپیل کی۔ عدالت نے ایس ای سی پی سے کمپنی کی تفصیلات اور این ڈی ایم اے سے جامع جواب طلب کرلیا۔

ٹرینڈنگ

مینو