کرپشن مقدمات کا 30 دن میں فیصلہ ناممکن

محمد عثمان

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کرپشن مقامات کا 30 دن میں فیصلہ ناممکن قرار دے دیا ہے، انھوں نے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا ہے کہ احتساب عدالتیں مقدمات کا بوجھ نہیں اٹھاسکتیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے جواب میں بتایا کہ ہر احتساب عدالت تقریبا 50 مقدمات کی سماعت کررہی ہے، کراچی ، لاہور ، راولپنڈی ، اسلام آباد اور بلوچستان میں اضافی عدالتوں کی ضرورت ہے ، نیب عدالتوں کی تعداد بڑھانے کیلئے حکومت سے متعدد بار کہا جاچکا ہے۔ 120 ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز نہیں تو ریٹائرڈ جج بھی مقرر کئے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے 50 ، 50 گواہ بنانے کو قانونی مجبوری قرار دیا اور بتایا کہ عدالتیں ضمانت کیلئے سپریم کورٹ کے اصولوں پر عمل نہیں کرتیں ، ملزمان کی متفرق درخواستیں اور اعلی عدلیہ کے حکم امتناع بھی تاخیر کا سبب ہیں ، ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کا طریقہ کار وقت طلب ہے۔ احتساب عدالتیں ضابطہ فوجداری پر عمل نہ کرنے کا اختیار استعمال نہیں کرتیں۔ سپریم کورٹ نیب کو رضاکارانہ رقم واپسی کا اختیار استعمال کرنے سے روک چکی ہے، رضاکارانہ رقم واپسی کی اجازت ملے تو کئی کیسز عدالتوں تک نہ پہنچیں۔

چیئرمین نیب نے بتایا کہ بیرون ممالک سے قانونی معاونت میں تاخیر بھی بروقت فیصلے نہ ہونے کا سبب ہے، عدالتیں سیاسی شخصیات کے لفظ کی غلط تشریح کرتی ہیں، اسی لئے سیاسی شخصیات کا مطلب غیر ملکی اداروں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو