معاون خصوصی سے کوئی حساب نہیں لیتا، بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس سمیت تمام کیسز نہ صرف سیاسی بلکہ مضحکہ خیز بھی ہیں، نیب کو سابق صدر سے ایسا سلوک نہیں کرنا چاہئے۔

تالپور ہاوس میرپورخاص میں وزیراعلی سندھ کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے پیپلزپارٹی رہنماوں کے خلاف کیسز کو مضحکہ خیز قرار دیا ، انھوں نے کہا کہ ایسے الزام لگائے جارہے ہیں جیسے گاوں کا پولیس والا لگاتاہے۔ اگر ہمت ہے تو پیپلزپارٹی کے خلاف غداری کی ایف آئی آر کاٹیں، اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی منظور کرنے پر ایف آئی آر کاٹیں، سامنے آئیں، یہ نظام انصاف کی توہین ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی کھیل اور سیاسی انتقام روک کر سیلاب سے تباہ حال عوام کی مدد کی جائے۔ پیپلزپارٹی متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ایک معاون خصوصی جو سپر ڈپر ہیں ان سے  کوئی حساب نہیں لیا جاتا، خان صاحب تو استعفی ماننے کو بھی تیار نہیں ہوئے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے سوال کیا کہ وزیراعظم کے خلاف جے آئی ٹی کب بنے گی، ملک میں ایک قانون ہے تو سب کو جواب دینا پڑے گا۔

بلاول بھٹو نے بتایا کہ بارش اور سیلاب سے بہت نقصان ہوا، میرپورخاص سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے، نقصانات کا ازالہ کرنے کیلئے غیرمعمولی مدد کرنی ہوگی لیکن وفاق نے آج تک ان کیلئے ایک روپیہ نہیں دیا۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے بتایا کہ وہ شاہ محمود قریشی کی عزت کرتے ہیں لیکن وہ  سندھ میں اپنے مریدوں سے اپنا حصہ لینے آتے ہیں کچھ دینے نہیں آتے۔

انھوں نے کہا کہ کراچی پیکج کے 11 سو ارب روپے میں 8 سو ارب روپے سندھ حکومت دے رہی ہے جبکہ وفاق کا حصہ صرف 100 ارب روپے ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو