خاتون کا کردارمشکوک، عدالت جائیں، پی پی

وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے کہاہے کہ اصل ایشوز سے توجہ ہٹانے کیلئے ایک خاتون کو کھڑا کردیا گیا ہے۔ اسی طرح تماشہ لگایا گیا تو کل کوئی اور جماعت ہوگی اور وہ بھی ہوسکتے ہیں جو آج بغلیں بجا رہے ہیں، جھوٹے الزام لگانے والوں پر سچے الزام لگے تو جان نہیں چھڑا سکیں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران سعید غنی نے کہا کہ مرتضی وہاب کی ان کی اہلیہ کے ساتھ تصویر لگا کر تماشہ بنایا گیا ، خاتون سچی ہیں تو عدالت جائیں ، مقدمہ کرائیں، ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے ایسی حرکتوں میں معروف کون ہے۔ خاتون کا کردار خود مشکوک ہے کبھی اسرائیل کبھی بھارت اور اب پاکستان میں آکر ہم سے زیادہ محب وطن بنے تو پھر بات ہی ختم ہوگئی۔

وزیرتعلیم سندھ نے بتایا کہ پیپلزپارٹی پاکستان اسٹیل سے ساڑھے 9 ہزار ملازمین کو نکالنے کے فیصلے کی مزاحمت کرے گی، سپریم کورٹ کی آبزرویشن کو استعمال کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے چول آکر کہتے ہیں پاکستان اسٹیل میں بھرتیاں پیپلزپارٹی نے کیں جبکہ یہ بات غلط ہے، مل کا پلانٹ 1800 ایکڑ پر ہے ، اس کی مالیت تقریبا 100 ارب روپے ہوگی، اسٹیل مل کی مجموعی زمین 19000 ایکڑ ہے، اس کی مالک سندھ حکومت ہے، اگر وفاق نے سندھ کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی فیصلہ کیا تو اس پر عمل نہیں ہونے دیں گے ، سندھ اپنی زمین واپس لے سکتا ہے۔

انھوں نے اسد عمر کو ڈی فیکٹو پرائم منسٹر اور حکومت کا چیتا کہہ کر مخاطب کیا اور پاکستان اسٹیل کے مزدوروں سے کئے گئے وعدے یاد دلائے، سعید غنی نے کہا اب دیکھتے ہیں کابینہ اجلاس میں کیا ہوتا ہے، امید ہے ایم کیو ایم کے دو وزرا فیصلے کی مخالفت کریں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو