سنتھیارچی تحقیقات کیلئے تیار

امریکی بلاگر سنتھیارچی نے کہا ہے کہ وہ اپنے موقف پر قائم ہیں ، سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے مشروب پلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ رحمان ملک نے خاتون کو الزام لگانے پر لیگل نوٹس بھیج دیا ہے۔

ایک انٹرویو میں سنتھیارچی نے الزام لگایا کہ رحمان ملک نے فون پر کہا ویزے کے معاملے پر آکر بات کریں، سابق وزیرداخلہ کے ڈرائیور نے بڑی گاڑی میں پک کیا، پیپلزپارٹی رہنما نے گلدستہ دیا اور پھر مشروب پلایا ، مشروب پی کر وہ بے ہوش ہوگئیں اور رحمان ملک نے زیادتی کی ، وہ اتنی مدہوش تھیں کہ چلنا بھی مشکل ہورہا تھا، انھیں ڈراپ کرنے والے ڈرائیور کو 2 ہزار پاؤنڈ دیئے گئے تھے۔

سنتھیارچی نے الزام لگایا کہ مخدوم شہاب نے کاندھے پر مساج کرنے کی کوشش کی ، اس پر انھوں نے مخدوم شہاب کو دور رہنے کا کہا، امریکی خاتون نے دعویٰ کیا کہ ان کے مخدوم شہاب الدین سے قریبی تعلقات تھے۔

خاتون نے یوسف رضا گیلانی پر نامناسب طریقے سے گلے لگانے کی کوشش کاالزام لگایا اور بتایا کہ ان کی یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سے کئی برس پہلے ملاقات ہوئی تھی، وہ عدالت میں تحقیقات کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں، بلاگر نے کہا کہ انھوں نے امریکی سفارتخانے کو شکایت کی لیکن کوئی خاص رسپانس نہیں ملا۔ یہ تنازع شروع کیسے ہوا ، سنتھیارچی ابتک کیا کہتی رہی ہیں اور پیپلزپارٹی کا کیا ردعمل آیا یہ جانتے ہیں اس رپورٹ میں

رحمان ملک کا موقف ہے کہ انھوں نے بینظیر بھٹو کے خلاف الزامات پر بطور چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نوٹس لیا تھا ، اسی لئے ان پر نازیبا اور جھوٹے الزامات لگائے گئے،  حکومت کے خلاف سخت بیانات پر انھیں قید اور قتل کرنے کی دھمکیاں بھی ملی ہیں لیکن وہ ڈرنے والے نہیں۔

سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کے وکلا نے سنتھیارچی کو 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھی بھیجا ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ آپ نے بے بنیاد الزامات لگا کر سینیٹر رحمان ملک کی ساکھ مجروح کی ، آپ نے پہلے بطور وزیرداخلہ غیرقانونی پی او سی جاری کرنے کا الزام لگایا تھا اس پر نادرا نے تردید کردی تھی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ سنتھیارچی سینیٹر رحمان ملک سے وزارت داخلہ میں ایک بار ملی تھیں، اس وقت وفاقی وزیر ، اعظم سواتی کی بیٹی بھی موجود تھیں۔

ٹرینڈنگ

مینو