جوبائیڈن کی ڈاکٹر اعجاز احمد سے خصوصی ملاقات

طاہر عباس (بیورو چیف نارتھ امریکا)

امریکا میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد سے خصوصی طور پر ورچول ملاقات کی ہے، جوبائیڈن نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ الیکشن جیتے تو پاکستان کمیونٹی کو شرمندہ نہیں ہونے دیں گے۔ 

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے امریکا کی اہم ترین کمیونیٹیز کے سرکردہ رہنماؤں سے ورچوئل ملاقات کی ، اس ملاقات کا مقصد انہیں اپنے انتخابی ایجنڈے سے آگاہ کرنا اور کمیونٹی رہنماؤں کی رائے جاننا تھا۔ ڈاکٹر اعجاز احمد کو خاص طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔

یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستانی امریکن کمیونٹی کو بھی اس اہم ملاقات میں شامل کیا گیا۔ اس موقع پر جو بائیڈن نے ڈاکٹر اعجاز احمد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اس لئے آپ کی بات سنتے ہیں کیونکہ وہ واقف ہیں کہ آپ لوگوں کو بخوبی جانتے ہیں اور صدارتی امیدواروں کی پوزیشنز سے بہتر طور پر آگاہ ہیں۔

پاکستانی امریکن کمیونٹی سیاست اور پالیسی سازی میں اس بار ماضی سے کہیں زیادہ  فعال ہے اور اے پی پیک امریکا بھر میں ان کی موثر ترین آواز ہے۔ اے پی پیک کے نیویارک، نیوجرسی ، کیلی فورنیا، ٹیکساس اور نیواڈا میں چیپٹرز سیاسی اور سماجی طور پر پوری طرح متحرک ہیں۔ جو بائیڈن اس صورتحال سے بخوبی واقف ہیں اور پاکستانی امریکن کمیونٹی کے ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بائیڈن کا ڈاکٹر اعجاز سے کہنا تھا کہ کمیونٹی آپ کو دیکھتی کہ آپ کسے پسند کرتے ہیں۔

جو بائیڈن نے شرکا کو بتایا کہ جو کام ڈاکٹر اعجاز احمد کر رہے ہیں وہ مشکل ترین ہے اور یہ کام دوسرے کے حق میں کھڑا ہونا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر اعجاز احمد واوچنگ فورس (دوسروں کے حق میں کھڑی ہونے والی شخصیت) ہیں۔

اے پی پیک کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد نے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کو بالاخر وہ توجہ حاصل ہوگئی جو محض لیڈروں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے اور ان کیلئے فنڈ ریزنگ تک محدود نہیں۔ اب پاکستانی کمیونٹی فیصلہ سازی سے متعلق مباحثوں کا بھی حصہ بن گئی ہے۔

جو بائیڈن نے زوم میٹنگ کے اختتام پر ڈاکٹر اعجاز کو پھر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری وکالت میں پیش پیش ہیں ، آپ تصور بھی نہیں کرسکتے جس قدر میں آپ کا شکر گزار ہوں اور آپ کی خدمات کو سراہتا ہوں کیونکہ آپ دوسروں کی مدد میں ہمیشہ آگے ہوتے ہیں۔ صدارتی امیدوار نے وعدہ کیا کہ وہ ڈاکٹر اعجاز کو شرمندہ نہیں ہونے دیں گے۔

جوبائیڈن کو باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار منتخب ہونے کیلئے درکار ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹ چند ہی روز پہلے حاصل ہوئے تھے ، اس کے بعد اس اہم ملاقات میں امریکن پاکستانی کمیونٹی کی نمائندہ تنظیم کے سربراہ کو شامل کرنا خود پاکستانی کمیونٹی کیلئے اعزاز ہے۔

امریکن پاکستانی پبلک افیئر کمیٹی (اے پی پیک) کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد سے کچھ روز پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر کوری بوکر نے ان کے گھر آکر ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر ڈاکٹر اعجاز نے کمیونٹی پر زور دیا تھا کہ صدارتی الیکشن میں اس جماعت کو ووٹ دیا جائے جو اسلامو فوبیا کے خاتمے اور نسلی اقلیتوں کے تحفظ میں کردار ادا کرنا چاہتی ہو۔

امریکی ایوان نمائندگان میں امور خارجہ کمیٹی کے رکن ٹام سوازی بھی ڈاکٹر اعجاز احمد سے نیویارک میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کرچکے ہیں۔ اس میٹنگ میں ڈاکٹر اعجاز نے پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کیا تھا۔

امریکن پاکستانی پبلک افئیرز کمیٹی کے چیئرمین نے اس سے پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر کے اعزاز میں واشنگٹن میں تقریب منعقد کی تھی ، اس تقریب میں سینیٹر باب مینڈیز ، سینیٹر رچرڈ بلومنتھل اور سینیٹر کیتھرین کورٹز ماستو بھی موجود تھیں۔ اس موقع  پر ڈاکٹر اعجاز احمد نے زوردیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق قرارداد پر سینیٹ میں بھی جلد بحث کی جانی چاہئے۔

امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی سماجی اور فلاحی کاموں میں بھی پیش پیش ہے، ڈاکٹر اعجاز احمد نے رمضان میں نیویارک کے مسلم پولیس افسروں کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔ بروکلین کے علاقے رالف ایونیو پر واقع 81 پولیس اسٹیشن میں منعقد اپنی نوعیت کے پہلے افطار ڈنر میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کو امریکی تاریخ کے اہم ترین الیکشنز میں سے ایک قرار دیا جارہا ہے، اس موقع پر ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے اے پی پیک کو مرکزی دھارے میں شامل کئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کی اہمیت تسلیم کرلی گئی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو