ڈاکٹر ماہا کی قبرکشائی کا فیصلہ

اعجاز امتیاز

کراچی پولیس نے ڈیفنس میں خودکشی کرنے والی ڈاکٹر ماہا علی کی قبرکشائی کا فیصلہ کرلیا۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن جنوبی بشیر احمد بروہی خودکشی کے مقام سے ملنے والے شواہد کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ ڈاکٹر ماہا کو گولی سر میں سیدھے ہاتھ کی جانب سے لگی تھی۔

ایم ایل او جناح اسپتال ڈاکٹر حسان احمد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ماہا کو گولی الٹے ہاتھ سے لگی۔

پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر کے والد نے پریس کانفرنس میں ایم ایل او اور ملزمان کی ملی بھگت کا الزام عائد کیا تھا۔ میڈیکل رپورٹ اور موت کے مقام سے ملے شواہد میں تضاد ہے جو میت کے پوسٹ مارٹم سے کلیئر ہوجائے گا۔

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو میڈیکل رپورٹ سے کیس میں فائدہ ہوگا، ڈاکٹر ماہا علی کی میت کا پوسٹ مارٹم کرنے سے صحیح میڈیکل رپورٹ بنے گی۔ عدالت سے قبرکشائی اور پوسٹ مارٹم کی درخواست کی جائے گی۔ عدالتی حکم پر پولیس سرجن، ایم ایل اوز اور ڈاکٹروں کی ٹیم میرپور خاص جاکر قبر کشائی کرے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق ڈاکٹر ماہا اور جنید کے 4 سال سے تعلقات تھے، ڈاکٹر ماہا نے جنید کے تشدد سے تنگ آکر خودکشی کی۔ متوفی کے والد نے دعویٰ کیا تھا کہ جنید، ڈاکٹر عرفان اور وقاص ان کی بیٹی کو بلیک میل کر رہے تھے، عدالت اس کیس میں نامزد ملزم عرفان کو ضمانت پر رہا کرچکی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو