کمپنیاں انسان خلا میں بھیجنے لگیں، ویڈیو

طاہر عباس (بیوروچیف نارتھ امریکا)

امریکا کی نجی کمپنی اسپیس ایکس 2 خلا بازوں کو ناسا کی مدد سے انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن روانہ کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ 2011 کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکی زمین سے راکٹ خلا میں بھیجا گیا ہے۔

فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے لانچ اسپیس فیلکن 9 میں ناسا کے خلاباز ڈوگ ہرلے اور باب بینکن سوار ہیں۔

اسپیس اسٹیشن زمین سے 400 کلومیٹر اوپر واقع ہے۔ کریو کا حامل یہ ڈریگن کیپسول 12 منٹ کے اندر مدار میں داخل ہوگیا۔ دونوں خلا بازون کو انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن  تک پہنچنے کیلئے 19 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا۔

لانچنگ تقریب میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر مائیک پنس بھی موجود تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ طاقت اور ٹیکنالوجی انتہائی غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے۔

پچھلے 9 برس سے خلا میں راکٹ بھیجنے کیلئے امریکا کا انحصار روس پر تھا جو اب ختم ہوگیا۔ ناسا کے خلا باز اب 120 دن اسپیس اسٹیشن پر گزاریں گے۔ سفر کے مناظر براہ راست دکھائے گئے۔

امریکی ارب پتی ایلن مسک کیلئے بھی یہ اعزاز ہے کہ ان کی کمپنی اسپیس ایکس ناسا کے ساتھ پبلک پرائیوٹ شراکت داری کے تحت خلا بازوں کو  خلا میں بھیجنے والی پہلی کمرشل آپریٹر بن گئی ہے۔

اسپیس ایکس خلا میں جانے کے خواہشمندوں کیلئے کمرشل سروس شروع کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے۔ ایلن مسک نے کہا کہ آج ان کا خواب پورا ہوگیا۔

ٹرینڈنگ

مینو