18 ویں ترمیم پرنظرثانی کی جائے گی، وزیراعظم

محسن رضا، اعجاز امتیاز

وزیراعظم عمران خان نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم پر نظرثانی کی جائے گی، کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر سزائیں اور جرمانے ہوں گے۔

کراچی اور لاڑکانہ میں صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے این ایف سی ایوارڈ کو ناقابل عمل قرار دیا، انھوں نے کہا کہ وفاق صوبوں کو پیسے دے کر 700 ارب روپے خسارے میں جاتا ہے ، اس میں خامیاں ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کی کئی چیزوں کو ختم کرنا ہوگا کیونکہ یہ جلد بازی میں شامل کردی گئی تھیں، اختیارت صوبوں سے بلدیات کو منتقل نہیں ہوئے، وزیراعلی کے پاس آمروں سے زیادہ اختیارات ہیں، کراچی اور لاہور کا مسئلہ میئر کے براہ راست انتخاب اور اس کے پاس اختیارات ہونے تک حل نہیں ہوگا۔ ملکی تاریخ کا سب سے بہترین بلدیاتی نظام آنے والا ہے اور پیسہ براہ راست ضلع کونسل تک جائے گا۔

بلاول بھٹو پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چیئرمین پیپلزپارٹی کو معلوم نہیں غریب کیسے رہتے ہیں ، بلاول ہاؤس میں لاک ڈاؤن ہوسکتا ہے ، اس کمرے میں نہیں جہاں 10 غریب ہوں، وزیراعلی سندھ این سی سی میں بات مان لیتے ہیں لیکن بعد میں بلاول مختلف بیان دے دیتے ہیں۔ ملک بند کردیا تو ڈھائی کروڑ دیہاڑی دار بھوک سے مرنے لگیں گے۔

انھوں نے بتایا کہ صوبوں میں پانی کی تقسیم کیلئے ٹیلی میٹری نظام لایا جائے گا، اس نظام کو چلنے نہیں دیا جاتا ، ٹیلی میٹری نظام کو کون خراب کر رہا ہے اس کی انکوائری ہورہی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو