چینی اسکینڈل رپورٹ پبلک، ترین اور شریف بھی ملوث

حکومت نے چینی اسکینڈل سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پبلک کردی، رپورٹ میں اربوں روپے کے گھپلے کا انکشاف ہوا اور چینی کی قیمت میں اضافے کا ذمے دار ریگولیٹرز کو قرار دیا گیا ہے۔ معاون خصوصی شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ  کسان کو تسلسل کے ساتھ لوٹا گیا، تمام شوگر ملز کسانوں سے انتہائی کم قیمت پر گنا خریدتی رہیں۔ 

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے بتایا کہ کسان کو کچی پرچی پر ادائیگی کی گئی ، گنا کم قیمت پر خریدا گیا اور زیادہ قیمت پر دکھایا گیا، ملک میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی بنتی ہے اس میں فرق ہے۔

معاون خصوصی نے بتایا کہ اس سال ایک اعشاریہ 7 میٹرک ٹن چینی انڈر رپورٹنگ ہے جو مارکیٹ میں بیچی گئی ، تمام مل مالکان نے 2 بکس رکھی ہیں، ایک کھاتا اپنے لئے اور دوسری کتاب حکومت کو دکھانے کیلئے ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ چینی بے نامی کسٹمرز کے نام پر سیل کی گئی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ تمام ملز نے کریشنگ صلاحیت بڑھائی ، اس کیلئے اجازت درکار ہے جو نہیں لی گئی۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اومنی گروپ کو فائدہ پہنچانے کیلئے شوگر ملز کو 9 اعشاریہ 3 ارب روپے کی سبسڈی دی۔ وفاق نے 2019 اور 2020 میں سبسڈی نہیں دی، پنجاب نے 2019 میں 3 ارب روپے کی سبسڈی رکھی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ برآمدات کی مد میں 58 فیصد چینی افغانستان جاتی ہے، افغانستان کو ٹی ٹیز کے تحت چینی ایکسپورٹ ہورہی ہے۔ یہ برآمد مشکوک ہے۔ پاکستان سے برآمد کی گئی چینی کا ڈیٹا افغانستان پہنچنے والی چینی سے مختلف ہے۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف فیملی کی رمضان شوگر ملز میں ڈبل رپورٹنگ ثابت ہوگئی، 2017 اور 2018 میں ملز نے ایک اعشاریہ 3 ارب روپے جبکہ 2018 اور 2019 میں 78 کروڑ روپے اضافی کمائے۔ جہانگیر ترین گروپ کی شوگر ملز ڈبل بلنگ ، اوور انوائسنگ اور کارپوریٹ فراڈ میں ملوث نکلی ہیں۔

ایک سوال پر شہزاد اکبر نے کہا کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر کسی کا نام ای سی ایل پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ کمیشن نے چینی بحران کا ذمے دار ریگولیٹرز کو قرار دیا ہے، کیسز نیب ، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو بھجوانے کی سفارش کی گئی ، کابینہ نے دیگر ملز کے بھی آڈٹ کا حکم دے دیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو