گردنوں سے گھٹنا ہٹاؤ، فلائیڈ کی یاد میں تقریب

امریکا میں مقتول جورج فلائیڈ کی میموریل سروس میں نامور شخصیات نے شرکت کی ، مینیاپلیس میں تقریب کے شرکا نے انھیں شریف النفس انسان اور قائدانہ صلاحیتوں کا مالک قرار دیا۔

مقتول کے اہلخانہ ، سماجی کارکن اور دیگر سوگواروں نے نارتھ سینٹرل یونیورسٹی میں تقریب کے دوران فلائیڈ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔ تقریب میں 8 منٹ 46 سیکنڈ تک خاموشی اختیار کی گئی، پولیس اہلکار نے جورج کے گلے پر 8 منٹ 46 سیکنڈ تک اپنا گھٹنہ رکھا تھا جس سے ان کی موت موقع ہوگئی تھی۔

جورج نے آخری لمحات میں اپنی والدہ کو پکارا تھا اور کہا تھا کہ وہ سانس نہیں لے سکتا۔ واقعے کے 3 ملزموں کو گرفتار کرکے عہدوں سے ہٹایا جاچکا ہے البتہ عدالت تینوں کو ضمانت پر رہا کرچکی ہے۔

مقتول کی فیملی کے وکیل بنجمن کرمپ نے نہ صرف اس واقعے بلکہ ایسے تمام کیسز میں انصاف کا مطالبہ کیا ، انھوں نے کہا کہ فلائیڈ کے قتل کی ویڈیو میں برائی کو دیکھا گیا ، اس لئے برائی کے خلاف احتجاج کیا جائے۔

اس تقریب میں جیسی جیکسن ، گورنر منی سوٹا ٹم والز اور  مینیاپلیس میئر جیکب فری سمیت کئی نامور شخصیات نے شرکت کی۔

یونیورسٹی کے صدر نے فلائیڈ کے نام پر اسکالرشپ کا اعلان کیا ، فلائیڈ کے بھائی نے کہا کہ انھوں نے باپ جیسا بھائی کھویا ہے ، مقتول جنرل کی طرح تھا اور ہردل العزیز شخص تھا۔

پہلی یادگاری تقریب مینیاپلیس میں منعقد ہوئی۔ ان تعزیتی تقاریب کا اختتام منگل کو ہوگا جب جارج فلائیڈ کی ہیوسٹن میں تدفین کی جائے گی۔

انسانی حقوق کے علمبردار الشرپٹن نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم جیورج فلائیڈ کے نام پر کھڑے ہوجائیں اور کہیں ہماری گردنوں سے اپنا گھٹنا ہٹادو۔

اس سے پہلے فلائیڈ کی میت لائی گئی تو مینیاپلیس پولیس چیف نے اپنا گھٹنہ زمین پر رکھ کر مقتول کو سلامی دی۔

ٹرینڈنگ

مینو