پائلٹ کا فوکس کورونا تھا، حادثے کی رپورٹ

وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کراچی طیارہ حادثے کی عبوری رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کردی۔

غلام سرور خان نے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طیارہ حادثے میں 97 افراد شہید اور 29 گھر تباہ ہوئے، نقصانات کا الزالہ کیا جائے گا، جاں بحق افراد میں سے 19 فیصد کو 10 ، 10 لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔

غلام سرور خان نے کہا کہ طیارہ بالکل درست اور پائلٹ فٹ تھا اور اس نے لینڈنگ کے وقت کسی تکنیکی خرابی کی نشاندہی بھی نہیں کی۔ کنٹرولر نے 3 بار پائلٹ کی توجہ دلائی کہ طیارے کی اونچائی زیادہ ہے لہذا لینڈنگ نہ کریں اور ایک چکر اور لگائیں لیکن پائلٹ اور معاون پائلٹ نے کنٹرولر کی ہدایات نظر انداز کیں۔

رپورٹ کے مطابق 10 ناٹیکل مائیل پر لینڈنگ گیئر کھولے گئے اور جب جہاز 5 ناٹیکل مائیل پر پہنچا تو لینڈنگ گیئر بند کرلئے گئے۔ لینڈنگ گیئر کے بغیر جہاز 3 بار رن وے سے ٹکرایا جس سے انجن کو نقصان پہنچا، پائلٹ اور ایئر ٹریفک کنٹرولر دونوں نے مروجہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔

وفاقی وزیر کے مطابق پائلٹ کے آخری الفاظ یا اللہ تھے لیکن گفتگو کورونا سے متعلق کی جارہی تھی ، پائلٹس کے ذہن پر کورونا سوار تھا، دونوں کے خاندان کورونا سے متاثر تھے اور دونوں حاضر دماغ نہیں تھے، ان کا فوکس کورونا تھا، جہاز آٹو لینڈنگ پر لگا ہوا تھا، بدقسمتی سے پائلٹ طیارے کو آٹو لینڈنگ سے نکال کر مینول پر لے آیا۔

انھوں نے بتایا کہ ایئربلو اور بھوجا ایئر کے حادثے بھی پائلٹس کی غلطی سے ہوئے، تحقیقات کرائی گئیں تو 4 پائلٹ کی ڈگریاں جعلی نکلیں، 40 فیصد پائلٹس کے لائسنس جعلی ہیں ، ملک میں 860 پائلٹس ہیں ، 262 پائلٹس کی جگہ کسی اور کے امتحان دینے کا انکشاف ہوا، اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی، اداروں میں سیاسی بنیادوں پر لوگوں کو بھرتی کیا گیا اور جعلی ڈگریاں بنوا کر بھی دی گئیں۔

ٹرینڈنگ

مینو