حکومت میں ملک چلانے کی قابلیت نہیں، سپریم کورٹ

چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت میں ملک چلانے کی صلاحیت ہے نہ قابلیت، اگر کے الیکٹرک پر رٹ نہیں تو اس کا مطلب ہوا پورے ملک میں حکومتی رٹ نہیں۔

کراچی میں لوڈشیڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پاور ڈویژن نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کی رپورٹ کے الیکٹرک سے پیسے لے کر بنائی گئی ، کیوں نہ ایسی رپورٹ پر جوائنٹ سیکرٹری کو نوکری سے فارغ کر دیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے موجودہ صورتحال پر رپورٹ مانگی تھی انہوں نے مستقبل کا لکھ دیا، مسقبل کو چھوڑ دیں، اب کیا کررہے ہیں اس کا بتایا جائے۔ کے الیکٹرک والے کراچی کے ساتھ بہت برا کررہے ہیں اور حکومت کے الیکٹرک کی منشی بنی ہوئی ہے، کے الیکٹرک نے 2015 سے رقم جمع نہیں کرائی، آپ لوگ ان کے ترلے کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اداروں میں ہم آہنگی نہیں، اس بار بلی تھیلے سے باہر آگئی ، وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو سبسڈی دے رہی ہے، آج بھی آدھا کراچی پانی اور اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے ، شہر میں مال بنانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، لوگوں کے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس حرکت میں آگئے ہوں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ 4 سال رہی لیکن ایک نالی نہیں بنائی، جتنے پیسے ملے وہ تنخواہوں پر خرچ کئے گئے ، کراچی میں کے ایم سی اور کنٹونمنٹ بورڈ ہے لیکن ملازم نظر نہیں آرہے، لگتا ہے سارے گھوسٹ ملازمین بھرتی ہوئے ہیں۔ کراچی کے کرتے دھرتے کچھ نہیں کریں گے، شہریوں کے منہ سے نوالا بھی چھین لیا جاتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو