حکومت خطرے میں ؟ اختر مینگل الگ ہوگئے

محمد عثمان

بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل نے پی ٹی آئی اتحاد سے علیحدہ ہونے کا اعلان کردیا۔

اختر مینگل نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حکومتی اتحاد سے الگ ہوگئے ہیں، ایوان میں موجود رہیں گے اور بلوچستان کیلئے آواز بلند کی جاتی رہے گی۔ اختر مینگل نے کہا کہ ان کے علاقے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے بچوں کو پڑھانا چھوڑ دیا ہے کیونکہ بچے پڑھ لکھ کر حقوق مانگتے ہیں ، حقوق مانگیں تو انھیں غائب کردیا جاتا ہے۔

اختر مینگل نے بتایا کہ ایک لڑکی کا بھائی لاپتہ تھا ، اس کی بازیابی کیلے بہن 4 سال لڑتی رہی اور 2 دن پہلے اس نے خودکشی کرلی۔ انھوں نے سوال کیا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر کس کے خلاف کاٹی جائے ؟ اختر مینگل نے حکومت کے ساتھ اپنی پارٹی کے معاہدے کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس پر عمل نہیں کیا گیا۔

بی این پی مینگل کی قومی اسمبلی میں 4 اور سینیٹ میں ایک نشست ہے۔ بی این پی مینگل کی علیحدگی سے پہلے پی ٹی آئی اور اتحادیوں کو قومی اسمبلی میں 186 ارکان کی حمایت حاصل تھی ، حکومت کے حامی ارکان کی تعداد اب 182 رہ گئی ہے اور اپوزیشن کے 156 اراکین ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو