برطانیہ جانا جیل جانے کے برابر

برطانوی حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کی تیاری کرلی مگر مختلف ممالک سے برطانیہ آنا جیل جانے کے مترادف کیا جارہا ہے۔

برطانیہ جانے والے ہر شخص کو کم سے کم 2 ہفتے کیلئے قرنطینہ اختیار کرنا پڑے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک ہزار پاونڈ جرمانہ دینا ہوگا۔ قرنطینہ ان برطانوی شہریوں کو بھی کرنا پڑے گا جو دیگر ممالک میں رہتے ہیں اور کسی کام سے اپنے وطن کا سفر کرنا چاہتے ہیں۔

یہ اقدام ملک میں کورونا وبا کا دوسری بار شدت سے پھیلاؤ روکنے کیلئے کیا جا رہا ہے ، ان اقدامات کا اعلان وزیراعظم بورس جانسن اتوار کو کریں گے اور اس کا نفاذ جون کے اوائل سے کیا جائے گا۔

برطانیہ جانے والوں کو ڈیجیٹل فارم بھرنا پڑے گا ، اس گھر کا پتا بھی لکھا جائے جہاں وہ 14 روز تک قرنطینہ کریں گے۔ حکام دورہ کرکے یہ چیک بھی کریں گے کہ آیا لوگ قرنطینہ اختیار کئے ہوئے ہیں یا نہیں۔

دفاتر کھولنے کیلئے بھی پالیسی نرم کئے جانے کا امکان ہے ، ملازمین کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ ٹیوب ٹرینز یا بسوں کے بجائے سائیکل پر سفر کریں تاکہ ہجوم سے بچ سکیں۔ دفاتر میں ماسک بھی لازمی قرار دیئے جانے کا امکان ہے۔

اسکول جون میں کھل سکیں گے یا نہیں، ابھی یہ طے نہیں ہوا۔ ویلش فرسٹ منسٹر نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ ویلز میں اسکول کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سیاحت سے وابستہ افراد نے 14 دن قرنطینہ کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ اس سے سیاحت کی صنعت کا جنازہ نکل جائے گا کیونکہ برطانیہ آنے کا خواہش مند کوئی بھی شخص 2 ہفتے قرنطینہ میں گزرنا نہیں چاہے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو