اسرائیل یواے ای ڈیل ، صف بندی کا آغاز

یو اے ای اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے اعلان پر دنیا 2 گروپس میں تقسیم ہوگئی، کچھ ممالک اسے درست کہہ رہے ہیں تو کچھ اسے امہ سے غداری سمجھتے ہیں، فلسطین نے اسے فلسطینی کاز سے غداری قرار دیا ہے جبکہ ایران اور ترکی نے اسے شرمناک کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔

یو اے ای پہلا خلیجی اور مسلم دنیا کا (اردن اور مصر کے بعد) تیسرا ملک ہے جو اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے پر رضامند ہوا ہے۔

معاہدے کے مخالفین

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینۃ نے یواے ای اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے رام اللہ میں بیان پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ مقبوضہ بیت المقدس، مسجد الاقصی اور فلسطینی عوام سے غداری ہے۔

تحریک آزادی فلسطین (پی ایل او) کے رہنما حنان عشراوی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کا اقدام دوست کو سربازار بیچنے کے مترادف ہے۔

حماس کے ترجمان نے ڈیل مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو قبضے اور جرائم کا صلہ دیا۔ معاہدہ صیہونی بیانیے اور قبضہ گیری کو تقویت دے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے سمجھوتے کی مذمت کرتے ہوئے اسے اسٹریٹجک حماقت قرار دیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ مظلوم فلسطینی اور آزاد قومیں جرائم میں ملوث اسرائیل کے ساتھ ڈیل پر متحدہ عرب امارات کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ فلسطین کی کمر میں خنجر مارا گیا، اس اقدام کے بعد علاقے میں صہیونی ریاست کے خلاف اتحاد مزید مضبوط ہوگا۔

ترک وزارت خارجہ  کا کہنا کہ تاریخ متحدہ عرب امارات کے منافقانہ رویئے کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یو اے ای اپنے محدود مفادات کیلئے  فلسطینی کاز کو نقصان پہنچارہا ہے۔

معاہدے کے حامی

متحدہ عرب امارات نے ڈیل کا دفاع کرتے ہوئے اسے حقیقت پسندی کی جانب اہم قدم قرار دیا ، اردن کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل قبضے کا سلسلہ ختم کردے تو اس معاہدے سے امن قائم ہوسکتا ہے۔ مصر کے صدر نے بھی خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام علاقائی استحکام کیلئے اہم ہے۔

بحرین ، عمان ، امریکا ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے بھی ڈیل کی حمایت کی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اسرائیل اور فلسطین کے رہنماوں کو بامعنی بات چیت کا موقع ملے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہا ہے کہ رہنماؤں کا ردعمل اپنی جگہ لیکن یو اے ای اور اسرائیل میں سفارتی تعلقات کی بحالی کے اعلان نے عالمی سطح پر بڑی صف بندی کا آغاز کردیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو