مقبوضہ کشمیر میں مظالم ، تحقیقات کرائی جائے، وزیراعظم

ویب ڈیسک

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر اور گستاخانہ خاکوں کا معاملہ اٹھادیا۔ انھوں نے بھارت کو بھی پیغام دیا اور کہا کہ ہم اپنی آزادی کیلئے آخری حد تک جائیں گے اور جارحیت کی گئی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس میں وزیراعظم کا ریکارڈ شدہ خطاب نشر کیا گیا، عمران خان نے کہا کہ عالمی معاہدوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ، نئی مخالف طاقتوں کے درمیان اسلحے کی نئی دوڑ جاری ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمسائیوں کے ساتھ اچھے تعلقات اور بات چیت سے مسائل حل کرنا چاہتا ہے، انھوں نے بھارتی حکومت کو پیغام دیا کہ سرحدوں پر بھارتی جارحیت کے باوجود پاکستان ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے ، اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو قوم بھرپور جواب دے گی۔

کشمیر سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کی جارہی ہے ، فوجی قبضے اور غیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کو دبایا جا رہا ہے۔ عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے۔ مقبوضہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنگی جرم ہے، یہ ظالمانہ مہم آر ایس ایس اور بی جے پی کے پلان کا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تمام کشمیری رہنما قید ہیں اور تقریبا 13 ہزار نوجوان لاپتہ کئے گئے ہیں، آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں کو امتیازی قوانین کے ذریعے شہریت جیسے مسائل سے دوچار کیا گیا۔ بھارت دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کو فروغ دے رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران دنیا کو متحد کیا جاسکتا تھا لیکن مختلف ممالک، قوموں، مذاہب اور فرقوں میں اختلافات مزید بڑھ گئے۔ ان ہی اختلافات نے اسلام مخالف جذبات کو بھڑکایا اور مختلف ملکوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا، مزارات توڑے گئے، ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین کی گئی، قرآن پاک کے بے حرمتی کی گئی اور یہ سب کچھ آزادی اظہار رائے کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو میں دوسری بار شائع گستاخانہ خاکے اسی کی مثال ہیں۔ عمران خان نے جنرل اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ اسلاموفوبیا کا خاتمہ کرنے کیلئے عالمی یوم منانے کا اعلان کیا جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو