کراچی حملے میں بھارت ملوث، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ، بھارت نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اپوزیشن والے سمجھتے ہیں مائنس ون کراکے بچ جائیں گے لیکن انھیں معلوم نہیں کہ اگر مائنس ہو بھی گیا تو باقی ارکان انھیں نہیں چھوڑیں گے۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے اسٹاک ایکسچینج حملے میں شہید سب انسپکٹر شاہد اور اسٹاک ایکسچینج کے 3 سیکیورٹی گارڈز کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ شک نہیں اس حملے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، دہشت گرد اسٹاک ایکسچینج کے ملازمین کو یرغمال بنانا چاہتے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پاور سیکٹر کا قرضہ اور معاہدے موجودہ حکومت سے پہلے کے ہیں ،اس سیکٹر کو ٹھیک کرنے کیلئے بڑی تبدیلیاں کرنی ہوں گی، 11 برس کے اندر پی آئی اے کے 10 چیف ایگزیکٹو ہٹائے گئے ، اس طرح کون سا ادارہ چل سکتا ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل بند ہے لیکن تنخواہوں دینی پڑرہی ہیں، پیپلزپارٹی نے پاکستان اسٹیل میں سیاسی بھرتیاں کیں، اصلاحات نہ کیں تو برے وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے شوگر انکوائری رپورٹ کا ذکر کیا اور بتایا کہ حکومت تمام کارٹلز اور مافیاز کو قانون کے دائرے میں لائے گی، آصف زرداری اور نوازشریف کی شوگر ملز ہیں، آپ کی شوگر ملز اس لئے ہیں تاکہ بلیک کا پیسہ وائٹ کیا جاسکے۔

انھوں نے خواجہ آصف کا نام لئے بغیر کہا کہ یہاں ایکٹنگ اپوزیشن لیڈر نے طنز کیا ، یہ اہم نہیں اس لئے ان کی بات کا برا نہیں مانتا ، وہ عاشق رسول بن گئے ، یہ سب مغرب جا کر لبرل بن جاتے ہیں کیونکہ ان کا ایمان نہیں ہے۔

عمران خان نے بلاول بھٹو کا نام لئے بغیر طنز کیا اور کہا کہ جب آپ کو جدوجہد کے بغیر پارٹی چیئرمین بنادیا جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے، یہ سمجھتے ہیں مائنس ون کراکے بچ جائیں گے لیکن انھیں معلوم نہیں کہ اگر مائنس ہوبھی گیا تو باقی ارکان انھیں نہیں چھوڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرسی چھوڑنے سے گھبرانا نہیں چاہئے اور نظریہ چھوڑنا نہیں چاہئے۔ کرسی آنی جانی چیز ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کسی طرح حکومت چلی جائے۔ کوئی مضبوط نہیں ہوتا ، آپ آج ہیں کل نہیں ہوں گے ، یاد رہے کہ وزیراعظم کی تقریر سے پہلے اپوزیشن ارکان واک آوٹ کرچکے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو