پی پی اور PTM کے تعلقات پر تحقیقات کا دعویٰ

پیپلزپارٹی کے رہنماوں پر الزام لگانے والی خاتون سنتھیارچی نے کہا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی اور پشتون تحفظ موومنٹ کے تعلقات پر تحقیقات کر رہی ہیں اور ڈاکیومنٹری بنارہی ہیں۔

ایف آئی اے کو دیئے گئے تحریری بیان میں سنتھیارچی نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا حکومت کے محکمہ آرکیالوجی اور این جی اوز کیلئے کام کرتی ہیں، پیپلزپارٹی سے لڑنا نہیں چاہتیں اور بلاول کو مستقبل کا رہنما بنتا دیکھ رہی ہیں، اسی لئے وہ اپنی ڈاکیومنٹری میں ان کا انٹرویو شامل کرنا چاہتی تھیں۔

امریکی خاتون سابق وزیرداخلہ رحمان ملک پر زیادتی ، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین پر دست دارزی کا الزام عائد کرچکی ہیں ، تینوں رہنما  الزام کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کرچکے ہیں۔ سنتھیارچی بینظیر بھٹو شہید سے متعلق بھی نامناسب ٹوئٹ کرتی رہی ہیں۔

پیلزپارٹی اسلام آباد کے صدر شکیل عباسی ، سنتھیارچی کے خلاف مقدمے کی درخواست لے کر عدالت گئے ہیں، ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے خاتون کے خلاف اس درخواست پر ایف آئی اے سے 9 جون کو جواب طلب کیا ہے۔ شکیل عباسی نے درخواست میں کہا تھا کہ امریکی خاتون نے سوشل میڈیا پر بینظیر بھٹو کے خلاف مہم چلائی۔ سنتھیارچی کا ٹوئٹ ڈیلیٹ کرانے کیلئے پی ٹی اے اور مقدمے کیلئے ایف آئی اے کو درخواست دی مگر کارروائی نہیں ہوئی۔

شہری وقاص عباسی نے بھی مقدمہ درج نہ کرنے پر درخواست کی تھی، اس پر ایڈیشنل سیشن جج عابدہ سجاد نے پولیس کو نوٹس جاری کیا اور 8 جون کو جواب طلب کیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو