چینی انکوائری رپورٹ پر عمل روکنے کا حکم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ملک بھر میں چینی 70 روپے کلو بیچنے کی ہدایت کرتے ہوئے شوگر انکوائری رپورٹ پر عملدرآمد روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے خلاف شوگر ملز ایسوسی ایشن کی اپیل پر سماعت کی، ایسوسی ایشن کے وکیل نے دلائل میں کہا کہ کمیشن نے اپنے ٹی او آر سے باہر جاکر کارروائی کی،معاون خصوصی اور دیگر وزرا کے ذریعے میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جس مقصد کیلئے کمیشن بنا تھا وہ ایڈریس ہی نہیں ہوا، کمیشن نے تو عام آدمی کو چینی کی فراہمی کیلئے کچھ نہیں کیا، حکومت یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی 80 روپے کلو چینی فروخت کررہی ہے، مفاد عامہ کا سوال کسی نے اٹھایا ہی نہیں، اگر کمیشن نے عوام کو چینی کی فراہمی کیلئے کچھ نہیں کیا تو پھر کیا کیا ؟

عدالت کے پوچھنے پر شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے بتایا کہ 2 سال پہلے چینی 53 روپے کلو تھی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 2 سال میں چینی 85 روپے کلو ہوگئی ، عدالت حکومت کو نوٹس کر کے پوچھ لیتی ہے لیکن آپ اس وقت تک 70 روپے پرچینی بیچیں۔ عدالت نے ملز مالکان کے خلاف کارروائی پر حکم امتناع جاری کیا اور 10 روز بعد کیس سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے معاون خصوصی شہزاد اکبر سمیت تمام متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کردیئے۔

ٹرینڈنگ

مینو