شوگر کمیشن رپورٹ پر کارروائی کی اجازت

محمد عثمان

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر عملدرآمد کے خلاف حکم امتناع ختم کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چینی انکوائری کمیشن کے خلاف شوگر ملز مالکان کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے درخواست مسترد اور حکم امتناع ختم کرتے ہوئے حکومت کو شوگر ملز کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی ہے۔

اس سے پہلے سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کو بتایا کہ رواج ہے کہ شوگر ملز کی طاقت ور شخصیات حکومت میں ہوتی ہیں، یہ کہنا غلط ہے کہ کمیشن سیاسی مخالفین سے انتقام کیلئے بنایا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ شوگر ملز کا مسئلہ حکومتی پریس کانفرنسز بھی ہیں، یہ حقوق متاثر کرتی ہیں، انکوائری اور تفتیش کے ہوتے ہوئے یہ نہیں ہونی چاہئیں۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کرکٹر سلیم ملک کیس کا حوالہ دیا ، انھوں نے کہا کہ سلیم ملک پر آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کا الزام تھا ، انھں نے ملک میں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی تھی ، ان پر جو الزام تھا اس سے متعلق ملک میں قانون ہی موجود نہیں تھا، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک میں کوئی قانون موجود نہ ہونے کی صورت میں انکوائری کمیشن بنایا گیا، شوگر کے معاملے پر تمام متعلقہ قوانین موجود ہیں، اس لئے انکوائری کمیشن کی ضرورت نہیں تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ میں وفاقی وزیر سے متعلق لکھا جانا حکومت کا امتحان ہے ، انکوائری رپورٹ اصل میں حکومت اور نیب کا امتحان ہے۔ شوگر ملز کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ شہزاد اکبر کو ذمے داری دی گئی کہ وہ کمیشن کی سفارشات پر عمل کرائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے مسابقتی کمیشن کیس کے فیصلے میں کہا تھا کہ کابینہ اپنا اختیار کسی کو نہیں دے سکتی، اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وہ حکومت کو معاملے پر نظرثانی کی ایڈوائس دیں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو