معاون خصوصی دوہری شہریت پر نااہل نہیں ہوسکتا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعظم کے دوہری شہریت رکھنے والے معاونین خصوصی کو عہدوں سے ہٹانے کی درخواست مسترد کردی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست کی سماعت کی اور کچھ دیر بعد محفوظ فیصلہ سنادیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کا معاون خصوصی دوہری شہریت پر نااہل نہیں ہوسکتا، دہری شہریت والا شخص بھی پاکستانی ہے محب وطن ہونے پر شک نہیں کیا جاسکتا۔

فیصلے کے مطابق وزیراعظم تنہا ریاست کا نظام نہیں چلاسکتے، معاون خصوصی کا تقرر وزیر اعظم کا اختیار ہے اور  تعداد کی بھی کوئی پابندی نہیں۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اکرم چوہدری کا کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 93 کے تحت 5 مشیر مقرر کئے جا سکتے ہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ آرٹیکل 93 مشیروں سے متعلق ہے ، معاونین خصوصی سے متعلق نہیں ، آئین میں دکھائیں کہاں لکھا ہے کہ معاونین دوہری شہریت نہیں رکھ سکتے۔

درخواست گزار کا موقف تھا کہ کابینہ کے 19 غیرمنتخب ارکان میں سے 4 معاونین خصؤصی کی دوہری شہریت ہے، ندیم بابر اور شہزاد قاسم امریکا، زلفی بخاری برطانیہ جبکہ تانیہ ایدروس کینیڈا کی شہریت رکھتی ہیں جنہیں برخاست کرنے کا حکم دیا جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو