سندھ: 3 اہم جے آئی ٹی رپورٹس پبلک

محسن رضا

سندھ حکومت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری ، عزیربلوچ اور نثار مورائی کی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹس پبلک کردیں، سانحہ بلدیہ اور عزیر بلوچ سے متعلق تفصیلات پہلے ہی منظر عام پر آچکی ہیں۔

جے آئی ٹی رپورٹس اپ لوڈ ہوتے ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ کا سرور ڈاؤن ہوگیا۔ لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں حبیب جان ، حبیب حسن ، سیف علی ، نور محمد ، عزیر بلوچ کے اہل خانہ اور دوستوں کے نام منظر عام پر آئے تھے۔

عزیر بلوچ نے تفتیش کے دوران 198 افراد کے قتل ، مختلف تھانوں میں 7 ایس ایچ اوز تعینات کرانے اور اقبال بھٹی کو لیاری میں ٹاؤن پولیس افیسر لگوانے کا بھی ذکر کیا تھا، رپورٹ کے مطابق عزیر بلوچ نے 2008 سے 2013 کے دوران ہتھیار خریدے، پاکستان اور دبئی میں غیر قانونی جائیدادیں بنائیں۔

سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں تصدیق کی گئی کہ کراچی کی فیکٹری کو 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی تھی۔

37 صفحات پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نہیں ہوا تھا ، دہشت گردوں نے بھتہ نہ ملنے پر منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی تھی۔ سانحے میں حماد صدیقی اور رحمان بھولا کا ہاتھ تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو