مسئلہ کشمیر : جو بائیڈن یا ٹرمپ ! بہتر کون ؟

مناہل زہرہ

زبر نیوز نے پروگرامنگ کا آغاز کرکے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا ، پہلے پروگرام کا نام This Is The Show ہے اور یہ امریکا کے ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے اس پالیسی بیان سے متعلق ہے جو انھوں نے کشمیر کے بارے میں خصوصی طور پر جاری کیا ہے۔ اس پروگرام کی میزبان عین ہیں ، کینیڈا میں پاکستان کے نامور صحافی طاہر عباس This Is The Show کے پروڈیوسر ہیں۔ 

کینیڈا کی رکن پارلیمنٹ اقرا خالد ، برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان ، اے پی پیک کے چیئرمین ڈاکٹر اعجاز احمد ، امریکا میں ری پبلکن پارٹی کے رہنما ڈاکٹر ارجمند ہاشمی ، معروف دانشور پروفیسر عادل نجم ، پروفیسر نعیم ظفر اور ڈاکٹر سلیمان نقوی مہمان تھے۔

ان شخصیات نے مسئلہ کشمیر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کی پالیسیوں کا تجزیہ کیا ، انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ اگر جو بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان تناو کم کرنے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے میں کیا پیش رفت ممکن ہے۔

مہمانوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ کورونا وبا کے دوران وادی میں پابندیوں نے عوامی مسائل بڑھا دیئے ہیں۔

پروفیسر عادل نجم نے بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے یک طرفہ اقدامات سے ثابت ہوگیا ہے کہ بھارتی حکومت مسائل حل کرنا نہیں چاہتی جبکہ عالمی طاقتیں بھی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

پروفیسر عادل نجم کا کہنا تھا کہ منصب صدارت پر جو بائیڈن ہوں یا ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی بنیادی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی البتہ پروفیسر نعیم ظفر نے یقین ظاہر کیا کہ جو بائیڈن صدر منتخب ہوئے تو صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت سے بہتر ہوگی۔

ٹرینڈنگ

مینو