امبرہیرڈ پر تشدد! رپورٹ غلط، جونی ڈیپ

امریکی اداکار جونی ڈیپ نے سابق اہلیہ اور اداکارہ امبر ہیرڈ پر تشدد سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر غلط قرار دے کر الزامات مسترد کردیئے۔

اداکار اپریل 2018 میں ایک آرٹیکل کے باعث دی سن اخبار کے پبلشر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، اس آرٹیکل میں انھیں بیوی پر تشدد کرنے والا شخص قرار دیا گیا تھا، یہ آرٹیکل بنیادی طور پر اداکارہ کے الزامات پر مبنی تھا۔

اگرچہ جونی ڈیپ نے امبر ہیرڈ پر تشدد کا الزام مسترد کیا لیکن اخبار کے وکیل کا کہنا ہے کہ خبر کی تفصیل بالکل درست تھی۔

ہالی وڈ اداکار کے وکیل ڈیوڈ شیربورن نے موقف اختیار کیا ہے کہ آرٹیکل میں ہتک آمیز الزامات لگائے گئے، جونی ڈیپ کے بارے میں کہا گیا کہ انھوں نے امبرہیرڈ پر اس حد تک تشدد کیا کہ ان کی جان خطرے میں پڑگئی، ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ یہ آرٹیکل ان کے موکل پر حملہ تھا، اس سلسلے میں امبرہیرڈ کے الزامات بھی جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جونی ڈیپ پرتشدد نہیں تھے بلکہ امیر ہیرڈ متشدد تھیں۔

جونی ڈیپ کو کیس میں گواہ کے طور پر طلب کیا گیا ، انھوں نے 26 ستمبر 2015 کی ٹیلی فون ریکارڈنگ سے متعلق بتایا کہ وہ اور ان کی سابقہ اہلیہ دونوں ایک دوسرے کی گفتگو ریکارڈ کیا کرتے تھے۔

امبر ہیرڈ نے تسلیم کیا کہ وہ گفتگو ریکارڈ کیا کرتی تھیں تاکہ جونی کو بتایا جاسکے کہ وہ منشیات اور الکوحل استعمال کرنے کے بعد کیا کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی کہی ہوئی باتیں بھول جاتے تھے۔

جانی ڈیپ نے عدالت کو بتایا کہ یہ بات درست نہیں ، اخبار کی وکیل ساشا واس کی جرح کے دوران جونی ڈیپ نے مانا کہ وہ بہت کم عمری میں منشیات استعمال کرنے لگے تھے اور انھوں نے 11 برس کی عمر میں والدہ کی دوا کھائی تھی۔

عدالت کو امبرہیرڈ کی جانب سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو بھی دکھائی گئی جس میں جونی ڈیپ الماری کو لاتیں مارتے دیکھے گئے۔ ویڈیو سے متعلق سوال پر جانی ڈیپ کا کہنا تھا کہ وہ بیوی نہیں الماری پر غصہ نکال رہے تھے۔

جونی ڈیپ کی بھی ایک تصویر عدالت میں پیش کی گئی جس میں انھیں اسپتال بیڈ پر لیٹا دیکھا جاسکتا ہے، اداکار کا کہنا تھا کہ امبر ان سے مادی فائدہ اٹھانے اور انھیں تباہ کرنے کیلئے ان کی زندگی میں آئی تھیں۔ انھوں نے الزام لگایا کہ سابقہ اہلیہ نے کئی بار ان کے منہ پر مکے مارے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو