کراچی کے الیکٹرک کا ٹیرف یکساں ہونا چاہئے، نیپرا

اللہ اللہ کرکے کے الیکٹرک نے اضافی لوڈشیڈنگ اور سسٹم اپ گریڈ نہ ہونے کا اعتراف کرلیا، چیف ایگزیکٹو افسر مونس علوی نے تسلیم کرلیا کہ نیشنل گرڈ سے 730 میگاؤاٹ سے زیادہ بجلی لی تو سسٹم بیٹھ سکتا ہے۔

روشنیوں کے شہر میں اندھیروں کی ذمے دار کے الیکٹرک کو آخر کار سچ بولنا پڑگیا، چیئرمین نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) توصیف ایچ فاروقی کی زیرصدارت نیپرا میں عوامی سماعت ہوئی۔ اس دوران چیف ایگزیکٹو افسر کے الیکٹرک مونس علوی بولے بجلی پیدا کرنے کیلئے فرنس آئل اور گیس کے علاوہ آپشن نہیں، فرنس آئل اور گیس کی قلت کے باعث لوڈشیڈنگ بڑھی، انھوں نے کے الیکٹرک کو بے قصور قرار دیا۔

ویڈیو لنک پر موجود ایم این اے آفتاب صدیقی نے کہا کہ دو دن کی بارش میں 6 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے، اس کا ذمے دار کون ہے ؟

فردوس شمیم نقوی بھی ویڈیو لنک پر موجود تھے، انھوں نے نیپرا کو بطور ریگولیٹر ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام قرار دیا اور کہا کہ اجارہ دار کمپنی کے سامنے چبانے کیلئے عوام کو پیش کردیا گیا ہے۔

چیئرمین نیپرا نے سی ای او کے الیکٹرک سے کہا کہ نجکاری کے باوجود کے الیکٹرک کا نظام بہتر نہیں ہوا، آپ ہمیں فیل کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیپرا نے کے الیکٹرک کو بجلی کی تقسیم اور پیداوار سمیت تمام تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا۔

چیئرمین نیپرا بولے لوڈشیڈنگ ختم ہونے تک پیک اور آف پیک ٹیرفس ختم کرکے ٹیرف یکساں ہونا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی ایسی ہے کہ اسے قومیانے کی تجاویز دی جارہی ہیں۔ نیپرا نے سماعت مکمل کرلی اور حقائق کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو