سانحہ بلدیہ فیکٹری دہشتگردی ، جے آئی ٹی رپورٹ

اعجاز امتیاز، محمد محسن

سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ کراچی کی فیکٹری کو 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر آگ لگائی گئی تھی۔

37 صفحات پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیہ فیکٹری میں آتشزدگی کا واقعہ نہیں ہوا تھا ، دہشت گردوں نے بھتہ نہ ملنے پر منصوبہ بندی کے تحت آگ لگائی تھی۔ سانحے میں حماد صدیقی اور رحمان بھولا کا ہاتھ تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق کیس میں پولیس کا کردار غیر ذمے دارانہ اور جانبدارانہ تھا، پولیس مکمل ناکام اور اصل کرداروں کو بچاتی دکھائی دی۔

جوائنٹ انویسٹی گیش ٹیم نے 11 ستمبر 2012 کے حملے کی نئی ایف آئی آر درج کرنے اور گواہوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری میں ڈھائی سو سے زائد افراد زندہ جلادیئے گئے تھے، ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج اور ملزم رحمان بھولا کو بینکاک سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیا تھا۔

رحمان نے اعترافی بیان میں کہا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر فیکٹری میں آگ لگائی تھی۔ اس کے بعد  مرکزی ملزم حماد صدیقی کو دبئی سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو