کشمیر کا سفیر کلبھوشن کا وکیل بنا، بلاول

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی، بلاول بھٹو کہتے ہیں وہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے کہیں گے کہ اختر مینگل کو باقاعدہ اپوزیشن کا حصہ بننے کی دعوت دیں۔ اپوزیشن کی اے پی سی عید کے بعد ہوگی اور اپوزیشن لیڈر اس کی صدارت کریں گے۔ 

بلاول بھٹو اور اختر مینگل کی ملاقات زرداری ہاوس اسلام آباد میں ہوئی، چیئرمین پیپلزپارٹی نے اختر مینگل سے عید کے بعد ہونے والی اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس اور بلوچستان کی صورتحال پر گفتگو کی۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جس نے کشمیر کا سفیر بننتا تھا وہ کلبھوشن کا وکیل بن گیا، کسی شخصیت کیلئے مخصوص قانون سازی نہیں ہوسکتی، دال میں کچھ کالا نہیں تھا تو کلبھوشن کیلئے آرڈیننس کو پارلیمنٹ سے کیوں چھپایا گیا، آرڈیننس ایوان میں نہ لا کر آئین کی خلاف ورزی کی گئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی ایوان میں نہ ہوتی تو قوم کو پتہ نہ چلتا کہ وزیراعظم سلیکٹڈ ہے اور انھوں نے کلبھوشن کیلئے کیا کیا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے 25 جولائی کو یوم سیاہ قرار دیا اور کہا کہ کورونا وبا نہ ہوتی تو اپوزیشن آج یوم سیاہ منانے کیلئے سڑکوں پر ہوتی، یاد ہے کس طرح 25 جولائی کو ملک میں سلیکشن کرایا گیا تھا ، پچھلے الیکشن میں اداروں کو متنازع کیا گیا ، سلیکٹڈ عمران خان نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا۔ عمران خان نے ہر مافیا کو این آر او دیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم خطرے میں نہیں ، اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی کو خطرہ ہوا تو حکومت کیلئے خطرات بڑھیں گے۔

ٹرینڈنگ

مینو