موٹروے زیادتی کیس: ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا

اسرار خان

لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے ، ملزم کا سراغ مل گیا اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون سے حاصل نمونے ملزم کے ڈی این اے نمونے سے میچ کرگئے ہیں۔ فارنزک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے بینک میں ملزم محمد عابد کا ڈی این موجود تھا اور اس کا جرائم پیشہ ریکارڈ بھی ہے۔

پولیس ذرائع نے زبرنیوز کو بتایا کہ زیادتی کیس کا ملزم عابد فورٹ عباس کا رہائشی ہے، کرمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013 سے موجود ہے۔ عابد کی گرفتاری کے لئے محکمہ انسداد دہشت گردی کی ٹیم چھاپے مار رہی ہے۔ انسپکٹر جنرل پنجاب انعام غنی نے بتایا کہ لاہور سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں ابتک کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ملزمان اور خاتون کی تصاویر بھی جعلی ہیں۔

آئی جی نے عوام سے پولیس پر اعتماد رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

ادھر موٹروے سے ملحقہ کرول گاوں اور قریبی دیہات سے کئی ریکارڈ یافتہ ملزمان گھروں سے غائب ہوچکے ہیں۔ پولیس نے اب تک 3 دیہات کے 53 افراد کے ڈی این اے سیمپل لئے ہیں۔

9 ستمبر کی رات تقریبا ڈیڑھ بجے لاہور کے علاقے گجرپورہ میں موٹروے پر خاتون کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران 2 ملزمان نے انھیں گاڑی سے اتار کر بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا اور زیورات ، نقدی اور اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہوگئے۔ متاثرہ خاتون لاہور سے گوجرانوالہ جارہی تھیں۔ زیادتی کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے اور میڈیکل ٹیسٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوچکی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو